ثبوت پیش کرنے یا کسانوں کے درمیان چلنے چیف منسٹر کو کے ٹی آر کا چیلنج
حیدرآباد ۔ 21 ڈسمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی کے ٹی آر نے زرعی قرض صدفیصد معاف ہوجانے کا ثبوت پیش کرنے پر اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوجانے اور سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلینے کا چیلنج کیا۔ کونڈا ریڈی پلی یا پالیر کے علاوہ کسی بھی علاقہ کو پہنچ کر کسانوں سے ملاقات کرنے کی حکومت کو پیشکش کی۔ آج اسمبلی میں قرض معافی پر مباحثہ کا اہتمام کیا گیا، جس میں حصہ لیتے ہوئے کے ٹی آر نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسانوں سے ملاقات کرتے ہوئے دریافت کیا جائے گا کہ آیا ان کے صدفیصد قرض معاف ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی نے اسمبلی انتخابات سے قبل کسانوں کو زیادہ سے زیادہ قرض حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ 9 ڈسمبر کو کسانوں کے قرض معافی کی فائل پر پہلی دستخط کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ایک ساتھ 2 لاکھ روپئے تک قرض معاف کرنے کا تیقن دلایا تھا۔ 7 ڈسمبر کو اسٹیٹ لیول بینکرس کا اجلاس طلب کیا جس سے بنکرس نے چیف منسٹر کو بتایا کہ قرض معافی کیلئے 49,500 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت ہوگی جبکہ چیف منسٹر قرض کی رقم 19 ہزار کروڑ ہونے کا محبوب نگر کے جلسہ عام میں اعلان کیا۔ اب کہا جارہا ہیکہ کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک قرض معاف کردیئے گئے ہیں۔ اگر سارے قرض معاف ہوجانے کا ثبوت پیش کریں اور کسان اس کا اعتراف کریں تو وہ اسپیکر کے فارمیٹ میں استعفیٰ دیں گے اور سرگرم سیاست سے بھی دستبردار ہوجائیں گے۔ ریتو بندھو اسکیم کو روک دیا گیا ہے۔ قول کے کسانوں کو بھی ریتو بندھو دینے کاوعدہ کیا گیا اس پر بھی عمل آوری نہیں ہوئی۔ ریتو بھروسہ اسکیم کیلئے بجٹ میں 15 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دورحکومت میں 70 ہزار کروڑ روپئے ریتو بندھو اسکیم سے فائدہ پہنچایا گیا۔ بی آر ایس حکومت کی اس اسکیم سے ریاست میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اڈانی کی خاطر چیف منسٹر نے کوڑنگل کے کسانوں کو جیل بھیجا ہے۔2