کسانوں کے احتجاج میں شدت، ایک روزہ بھوک ہڑتال

,

   

کئی مقامات پر ٹریفک کا رُخ موڑ دیا گیا، کجریوال اور منیش سیسوڈیا کی تائید

زرعی قوانین کسانوں کی فلاح کو مدنظر رکھ کر وضع کئے گئے : راج ناتھ سنگھ

نئی دہلی : گزشتہ دو ہفتوں سے حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں نے احتجاج کا جو سلسلہ جاری رکھا ہے اُس میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے آج وہ ایک روزہ بھوک ہڑتال کررہے ہیں جبکہ نئی دہلی سے قریب سنگھو سرحد کے علاوہ ملک کے تمام حصوں میں کسان احتجاج کریں گے۔ بھوک ہڑتال کا وقت صبح 8 بجے تا شام 5 بجے مقرر کیا گیا ہے جس کا مقصد 14 ڈسمبر سے احتجاج میں شدت پیدا کرنا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال بھی کسانوں کی تائید میں ایک روزہ بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔ اُنھوں نے اس موقع پر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جہاں بھی ہیں کسانوں کی تائید میں ایک روزہ بھوک ہڑتال کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ اس بات کا اُنھیں صد فیصد یقین ہے کہ آخر میں کسان اپنی لڑائی میں کامیابی حاصل کریں گے۔ اُنھوں نے عام آدمی پارٹی کے والینٹرس اور حامیوں کے علاوہ ملک کے عوام سے بھی کسانوں کی تائید کرنے کی اپیل کی۔ دوسری طرف سنگھو سرحد پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کسان لیڈر گرنام سنگھ چڈونی نے کہاکہ لیڈران اپنے اپنے مقامات پر بھوک ہڑتال کریں گے جبکہ تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرس پر دھرنے بھی دیئے جائیں گے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔ اب جبکہ پنجاب کے علاوہ دیگر ریاستوں سے بھی کسانوں کی بڑی تعداد سنگھو اور ٹکری سرحد پر پہنچ رہی ہے تاکہ گزشتہ 18 دنوں سے جاری دھرنے میں شامل ہوا جاسکے۔ وہیں مرکزی وزیر کیلاش چودھری نے کہاکہ حکومت کسانوں سے اگلی بات چیت کی تاریخ کا جلد ہی تعین کرے گی اور یقین دہانی کروائی کہ اس بار بات چیت ضرور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔ یاد رہے کہ حکومت اور کسانوں کی بات چیت کے پانچ مرحلے ناکام ہوچکے ہیں اور چھٹا مرحلہ 9 ڈسمبر کو منسوخ کردیا گیا تھا۔ کسانوں کی بھوک ہڑتال اور احتجاج میں شدت کو دیکھتے ہوئے پیر کے روز دارالحکومت کو جوڑنے والی متعدد سرحدیں ٹریفک کے لئے بند کردی گئیں اور پولیس نے موٹر رانوں سے خواہش کی ہے کہ وہ متبادل راستے اختیار کریں۔ پولیس نے عوام کو ٹوئٹر پر راستے بند ہونے کی اطلاع فراہم کی تاکہ لوگ اپنے سفر کا آغاز کرنے سے قبل خوب اچھی طرح سوچ لیں ورنہ اُنھیں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ متعدد ٹوئٹس کے ذریعہ دہلی کے سنگھو، اوچنڈی، منیاری، سبھولی اور منگیش سرحدوں کے بند ہونے کی اطلاع دی گئی ہے اور عوام سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ لمپور، صفی آباد اور سنگھو اسکول ٹول ٹیکس سرحد کا راستہ اختیار کریں۔ ٹریفک کا رُخ مکاریا اور جی ٹی کے روڈ سے موڑ دیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ اس تمام تام جھام کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ جو زرعی قوانین وضع کئے گئے ہیں اُنھیں واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کسانوں کے اصلاحات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قوانین وضع کئے گئے ہیں۔ دوسری جانب اروند کجریوال کے علاوہ دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سیسوڈیا بھی کسانوں کی تائید میں ایک روزہ بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔ کسان اپنے موقف پر اٹل ہیں کہ جب تک متنازعہ زرعی قوانین کو واپس نہیں لیا جاتا اُس وقت تک اگلے مرحلہ کی بات چیت نہیں ہوگی۔