آباد و اجداد کے پیدائشی صداقت ناموں کی ضرورت نہیں ، دستاویز اور صداقت نامے نہ رکھنے والے َان پڑھ افراد کیلئے مقامی ثبوت پیش کرنے کی سہولت
حیدرآباد / نئی دہلی / 20 ڈسمبر ( پی ٹی آ:ی ) مرکزی وزارت داخلہ نے کہا کہ کسی بھی ہندوستانی کو اپنا شہریت کے ثبوت کے طور پر باپ ، دادا کے پیدائش صداقت نامے یا پھر ماقبل 1971 کے اسناد و دستاویزات پیش کرنے کیلئے پوچھتے ہوئے الجھن و پریشانی میں مبتلا نہیں کیا جائے گا ۔ وزارت امور داخلہ کے ایک ترجمان نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں کہا کہ ایسے ان پڑھ شہری جن کے پاس کوئی دستاویزات یا صداقت نامے نہیں ہیں انہیں مقامی برادری کے ارکان کی مدد سے مقامی ثبوت اور گوراہ پیش کرنے کی اجازت رہے گی ۔ ترجمان نے کہا کہ پیدائش کی تاریخ یا مقام یا ان دونوں سے متعلق دستاویزات کی پیشکشی ہندوستان شہریت ثابت کی جاسکتی ہے ۔ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ کسی بھی ہندوستانی کو کسی الجھن پریشان یا ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ مشترکہ عام دستاویزات کی اس فہرست میں شمولیت متوقع ہے ۔ وزارت داخلہ کی طرف سے اس ضمن میں اس کے موثر ضابطہ وضع کیا جائے گا ۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ہندوستانی شہریوں کو اپنے آباء و اجداد کا کوئی ثبوت دینے کیلئے شناخت کارڈس ، ان کے پیدائشی صداقتنامے یا پھر اپنے ماں باپ یا والدین کے والدین کے بارے میں 1971سے پہلے کی تواریخ پر پیدائشی صداقتنامنے سے یا دستاویزات پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہیں ۔ شہریت ترمیمی قانون کی گذشتہ ہفتہ پارلیمنٹ میں منظوری اور صدر جمہوریہ کی دستخط کے بعد یہ وزارت داخلہ کی طرف سے ٹوئیٹس منظر عام پر آئے ہیں ۔ شہریت ترمیمیی قانون سی اے اے کے مطابق اسے تمام ہندو ، سکھ ، بدھ ، جین ، پارسی اور عیسائی جو 31 ڈسمبر 2014 تک افغانستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہندوستان پہونچے ہیں اور جنہیں ان کے متعلقہ ملکوں میں منظم سرکاری مظالم کا سامنا تھا ۔ انہیں غیر قانونی مہاجرین متصورت نہیں کیا جائے گا اور ایسے تمام افراد کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی ۔