کسی مسلح گروہ کو افغانستان میں سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی گئی: حکومت

   

کابل : 28ستمبر ( ایجنسیز ) افغانستان کی عبوری حکومت کے نائب ترجمان کا کہنا ہے افغانستان میں کسی مسلح گروہ کو سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی گئی۔نائب ترجمان طالبان حکومت حمد اللہ فطرت کا کہنا ہے افغانستان 4 ملکی مذاکرات میں افغانستان میں کسی غیر ملکی فوجی اڈے کے خلاف بیان کا خیر مقدم کرتا ہے، افغانستان پاکستان، روس، چین اور ایران کے موقف کا خیرمقدم کرتا ہے۔حمد اللہ فطرت نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، افغانستان میں کسی مسلح گروہ کو سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی گئی، یہ بات بیبنیاد ہیکہ افغانستان سے دوسرے ممالک کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔نائب ترجمان افغان حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان بدعنوانی، منشیات اور ہرقسم کے ناپسندیدہ امور کیخلاف اقدامات کر رہا ہے، ہم تمام ممالک کیساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔ حمداللہ فطرت کا کہنا تھا کابل کی پالیسی باہمی اعتماد، مثبت روابط اور دوستانہ تعلقات کے فروغ پر مبنی ہے، سیاسی ماہرین کے مطابق علاقائی ممالک کی افغانستان کے استحکام کی حمایت ایک موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان اس کے ذریعے اپنے سیاسی اور اقتصادی روابط مزید مستحکم بناسکتا ہے، کابل کا پڑوسی ممالک کے خدشات کا مثبت جواب دینا اعتمادسازی بڑھا سکتا ہے۔