بھوپال: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں پیش آئے گیس سانحہ کی 37 ویں برسی کے موقع پر متاثرین کی تنظیموں نے آج الزام لگایا کہ متاثرین میں سے کسی کو بھی مناسب معاوضہ نہیں ملا۔گیس متاثرین تنظیموں کے رہنماؤں نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران ریاست اور مرکزی حکومت پر اپنی 37 روزہ مہم ’37 سال 37 سوال’ کے بارے میں اطلاعات بھی شیئر کیں۔اس دوران بھوپال گیس پیڑت مہیلا اسٹیشنری ایمپلائز ایسوسی ایشن کی صدر اور گولڈمین انوائرمنٹ ایوارڈ یافتہ رشیدہ بی نے الزام لگایا کہ کسی بھی متاثر کو مناسب معاوضہ نہیں ملا۔ انہوں نے بتایا کہ آج تک کوئی مجرم ایک منٹ کے لیے بھی جیل نہیں گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری جمہوری طور پر منتخب حکومتوں اور امریکی کمپنیوں کے درمیان گٹھ جوڑ آج بھی جاری ہے ۔انہوں نے بتایا کہ یونین کاربائیڈ گیسوں سے ہونے والی بیماریوں کے علاج کا کوئی مستند طریقہ تیار نہیں کیا گیا ہے ۔ حکومت نے حادثے کے صحت پر پڑنے والے اثرات کی تمام تحقیق کو بھی روک دیا ہے ۔2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات بھوپال میں یونین کاربائیڈ فیکٹری سے زہریلی میتھائل آئوسیانیٹ گیس کے اخراج کی وجہ سے ہزاروں لوگ مارے گئے تھے ۔ اس گیس کا اثر آج بھی فیکٹری کے اطراف کی بستیوں کے مکینوں میں نظر آرہا ہے ۔