کشمیر :سکیورٹی فورس اور عوام میں تصادم

,

   

فوج کے ہاتھوں 3 عسکریت پسند اور ایک گھریلو خاتون کی ہلاکت پر احتجاج

سری نگر: جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کے بتہ مالو علاقے میں جمعرات کی علی الصبح ہونے والے ایک مسلح تصادم میں تین عسکریت پسند ہلاک ہو گئے جبکہ ایک خاتون جاں بحق ہو گئی۔ واقعہ میں ایک افسر سمیت سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے 2 اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بتہ مالو علاقے میں جمعرات کی صبح چھڑنے والے مسلح تصادم میں تین عسکریت پسند مارے گئے ہیں جن کی ابھی تک شناخت نہیں ہو پائی ہے۔تاہم ذرائع نے بتایا کہ طرفین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک مقامی 45 سالہ خاتون کوثر جاں بحق ہو گئی ہیں۔بتہ مالو کے فردوس آباد میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر پولیس اور سی آر پی ایف نے جمعرات کی علی الصبح تقریباً 3 بجے مذکورہ علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع کیا۔پولیس کی اس کارروائی کے بعد سرینگر میں سینکڑوں مشتعل شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ شہریوں کو منتقل کرنے کیلئے فوج نے آنسو گیاس شیلس برسائے۔ پولیس اور عینی شاہدین نے بتایا کہ تصادم اُس وقت شروع ہوا جب فوج کے ہاتھوں مزید 4 ہلاکتیں ہونے پر عوام نے احتجاج کیا۔ احتجاج کو ناکام بنانے کیلئے فوج نے طاقت کا استعمال کیا۔ 3 عسکریت پسندوں کے ساتھ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں ایک گھریلو خاتون بھی زد میں آگئی اور ہلاک ہوگئی۔ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے سرینگر میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ پولیس کو سرینگر کی اس نوجوان خاتون کی موت پر شدید افسوس ہے۔ جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی کہ مسلح کارروائی میں کشمیری خاتون سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں، سینکڑوں کی تعداد میں مقامی باشندے اپنے گھروں سے باہر سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین انتہائی مشتعل تھے ۔ انہوں نے سکیورٹی فورس پر سنگباری شروع کردی۔ مسلح فورس نے احتجاجیوں کے خلاف آنسو گیاس اور پیلٹ گنس کا بھی استعمال کیا۔