مرکز میں نئی حکومت آنے کے بعد 14 دہشت گرد حملے ہوئے
نئی دلی :کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملہ کے دوران تصادم میں ایک جوان کی شہادت اور میجر سمیت چار کے زخمی ہونے پر فکر مندی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مرکز میں نئی حکومت بننے کے بعد سے اس مرکز کے زیر انتظام خطہ میں 14 دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں۔دراصل فوج نے جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے کمکاری سیکٹر میں ہفتہ کے روز پاکستان کی ’بارڈر ایکشن ٹیم‘ (بی اے ٹی) کے حملے کو ناکام کر دیا۔ اس دوران ہوئے تصادم میں فوج کا ایک جوان شہید ہو گیا جبکہ ایک کیپٹن سمیت چار دیگر فوجی اہلکار زخمی ہو گئے جن کا علاج جاری ہے۔اس واقعہ کے تعلق سے پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے ساتھ ہوئے تصادم میں ایک جوان کے شہید اور 4 جوانوں کے زخمی ہونے کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے غمزدہ اہل خانہ کے تئیں ہمدردی کا اظہار کیا اورزخمی جوانوں کے جلد صحت یاب ہونے کی دعا کی۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کی زیر قیادت نئی حکومت بننے کے بعد جو دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں ان میں 15 جوانوں کی شہادت ہوئی ہے جو ملک کے لئے فکر کی بات ہے۔ دہشت گردی کے خلاف سخت اور نتیجہ خیز قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے جموں وکشمیر میں دہشت گردی میں کمی کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔