کشمیر میں دو ماہ بعد بھی جمعہ کی نماز پر پابندی

   

ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ خدمات مسدود
سرینگر ۔19 اکتوبر ۔( سیاست ڈاٹ کام ) جمعہ کی نماز کے پیش نظر سرینگر کے بعض حصوں میں جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں اُنھیں ہفتہ کے دن اُٹھالیا گیا لیکن 76 ویں دن بھی ساری وادی میں عام زندگی متاثر رہی ۔ بعض ذرائع نے بتایا کہ دفعہ 144 کے تحت سورا پولیس چوکی اور نوباٹا پولیس چوکی کے تاریخی جامع مسجد کے علاقوں میں یہ پابندیاں نافذ رہیں۔ حکام جمعہ کے دن وادی کے بعض حساس علاقو ںمیں جمعہ کی پابندیاں عائد کیا کرتے ہیں تاکہ مفادات حاصلہ کو جمعہ کی نماز کیلئے اکٹھا ہونے والے اجتماع کو استعمال کرنے سے روکا جاسکے۔ جامع مسجد کشمیر کی سب سے بڑی مسجد ہے یہاں دو ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے جمعہ کی نماز کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ دریں اثناء روزمرہ کیزندگی ساری وادی میں متاثر رہی ۔ صبح میں چند گھنٹوں کے لئے دکانیں کھولی گئیں۔ لال چوک میں بھی بعض دکانیں تھوڑی دیر کے لئے کھلی رہیں جو اس علاقہ کا تجارتی مرکز ہے لیکن شہر میں حمل و نقل کے خانگی ذرائع بلا روک ٹوک اور کشمیر کے دیگر علاقوں میں جاری رہے اور بعض علاقوں میں آمد و رفت میں کثیر ہجوم کی وجہ سے رکاوٹیں بھی پیدا ہوتی رہیں۔ سرکاری ذرائع کے بموجب آٹو رکشہ اور بین ضلعی کیاب بھی بعض علاقوں میں نظر آئیں مگر حمل و نقل کے دیگر ذرائع سڑکوں پر نظر نہیں آئے ۔ سرپرستوں نے طلبا کو گھروں میں ہی روکے رکھا ۔ موبائیل سرویس بحال کردی گئی مگر ایس ایم ایس کو اچانک بند کردیا گیا ۔ انٹرنیٹ بھی مسدود رہا ۔