کشمیر میں سخت چوکسی کے دوران نماز جمعہ کیلئے پابندیوں میں نرمی

,

   

سرینگر 9 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) کئی دن تک اپنے گھروں میں محروس کردئے جانے کے بعد کشمیر میں عوام نے اپنی مقامی مساجد میں نماز جمعہ ادا کی جبکہ اس سہولت کیلئے وہاں پابندیوں میں نرمی پیدا کی گئی تھی۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی اور کہا کہ وادی میں صورتحال بحیثیت مجموعی پرامن رہی ہے اور صرف شمالی کشمیر کے سوپور ٹاون میں سنگباری کے کچھ معمولی واقعات پیش آئے ہیں۔ وادی میں عوام کو عملا گھروں میں رہنے پر مجبور کردیا تھا کیونکہ وہاں جموں و کشمیر کیلئے خصوصی موقف ختم کردئے جانے کے بعد بھاری تعداد میں سکیوریٹی دستوں کو متعین کردیا گیا تھا ۔ عوام کو آج اپنے محلوں میں مساجد جانے کی اجازت دی گئی اور ان سے سکیوریٹی عملہ نے کسی طرح کے سوالات نہیں کئے ۔ اس نرمی کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے اور تا دم تحریر صورتحال سرینگر شہر اور جنوبی کشمیر میں پرامن بتائی گئی ہے ۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی تاہم کہا کہ دیگر علاقوں سے رپورٹس ابھی ملنی باقی ہیں۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر کے سوپور ٹاون میں سنگباری کے معمولی واقعات پیش آئے ہیں کیونکہ سکیوریٹی فورسیس کو وہاں بھی سخت چوکس رکھا گیا ہے اور ساری وادی میں چوکسی برتی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی امکانی احتجاج کو روکا جاسکے ۔ مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول کی جانب سے حکام کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ کسی بھی کشمیری کو ہراساں نہ کیا جائے جس کے بعد تحدیدات میں نرمی دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ اجیت ڈوول منگل سے یہاں قیام کئے ہوئے ہیں اور انہوں نے جمعہ کو شہر کے حساس ڈاون ٹاون علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے سکیوریٹی عملہ اور مقامی عوام سے بھی بات چیت کی ہے ۔ مشیر قومی سلامتی نے اپنے معاونین اور سینئر پولیس عہدیداروں کے ہمراہ عیدگاہ علاقہ کا دورہ کیا اور کئی مقامات پر توقف کرتے ہوئے انہوں نے مقامی افراد سے بات چیت کی ۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں سے بات چیت کی اور انہیں لا اینڈ آرڈر کی برقراری پر مبارکباد بھی دی ۔ سکیوریٹی فورسیس کو ساری وادی کشمیر میں چوکس رکھا گیا ہے ۔ حکام کو اندیشے تھے کہ کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کرنے کے نتیجہ میں وہاں احتجاج شروع ہوسکتا ہے ۔ پیر کو ہی مرکزی حکومت کی جانب سے اس موقف کی برخواستگی سے قبل کشمیر میں پابندیاں عائد کردی گئی تھیں اور سرینگر و دوسرے بڑے شہروں میں سکیوریٹی فورسیس کو چوکس کرتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں۔ تمام ٹیلیفون اور انٹرنیٹ رابطے بھی بند کردئے گئے تھے ۔