کشمیر میں عام شہریوں کو ہدف بنا کر قتل کے واقعات میں اضافہ

   

سرینگر: کشمیر میں گزشتہ روز تین عام شہریوں اور گزشتہ ہفتہ دو افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔ پولیس کا دعوی ہے کہ یہ عسکریت پسندوں کا کام ہے تاہم مبصرین اس بارے میں کچھ اور ہی رائے رکھتے ہیں۔ کشمیر میں 5اکتوبر کو ایک کشمیری پنڈت سمیت تین عام شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ سب سے پہلے پنڈت برادری سے تعلق رکھنے والے ایک معروف تاجر کو گولی مار دی گئی۔ اس کے بعد سری نگر میں ہی بہار سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا، جو کھانے کا ایک اسٹال لگاتا تھا۔ اسی روز شام کے وقت ہی تیسرے شخص کو بانڈی پورہ میں قتل کیا گیا، جو ایک ٹیکسی اسٹینڈ ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔گزشتہ ہفتہ بھی اسی طرز پر دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔کشمیری پنڈت برادری سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیت ماکھن لال بندرو کی کیمسٹ کی دو بڑی دکانیں ہیں۔ یہ دکانیں ان کے والد نے 1947میں قائم کی تھیں اور بندرو خاندان نوے کی دہائی میں اس وقت بھی کشمیر چھوڑ کر نہیں گیا، جب کشمیری پنڈت تشدد کے سبب کشمیر سے فرار ہو رہے تھے۔حکام نے ان پرتشدد واقعات کا الزام عسکریت پسندوں پر عائد کیا ہے۔ تاہم کشمیری مبصرین کہتے ہیں کہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ ان واقعات کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ سرینگر کے سینیئر صحافی ہارون ریشی نے میڈیا بات چیت میں کہا کہ کشمیر تنازعہ میں اب بہت سی ایجنسیاں شامل ہیں اور ایجنسیوں کی جنگ جاری ہے۔