کشمیر میں عوام عدالت سے رجوع ہونے سے قاصر کیوں ؟

   

جموں و کشمیر عدالت عالیہ سے سپریم کورٹ کو رپورٹ مطلوب

نئی دہلی ۔ 16 ستمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) اس الزام کو بہت ہی سنگین قرار دیتے ہوئے کہ جموںاینڈ کشمیر ہائیکورٹ سے رجوع ہونے میں ریاستی عوام کو بہت مشکل پیش آرہی ہے ، سپریم کورٹ نے پیر کو وہاں کے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ اس معاملے میں رپورٹ داخل کریں۔ چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کی بنچ نے کہا کہ فاضل عدالت سنگین نوعیت کے الزام کا نوٹ لینے کی پابند ہے۔ سی جے آئی نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر وہ خود سرینگر کا دورہ کریں گے ۔ اس بنچ نے جسٹس ایس اے بوپڈے اور جسٹس عبدالنظیر بھی شامل ہیں۔ بنچ نے کہاکہ اگر آپ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو ہم اس کا ضرور نوٹ لیں گے ۔ ہمیں بتائیے کہ کیوں لوگوں کو ہائیکورٹ سے رجوع ہونے میں اتنی مشکل پیش آرہی ہے ؟ کیا کوئی لوگوں کو ہائیکورٹ جانے سے روک رہاہے ؟ یہ بہت ہی سنگین بات ہے ۔ سینئر ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے دو جہدکاروں کی پیروی کرتے ہوئے بنچ کو بتایا کہ ریاست میں ہائیکورٹ سے رجوع ہونا عوام کیلئے بہت مشکل ہورہا ہے ۔ چیف جسٹس نے سوال کیا ’’ آپ کہہ رہے ہو کہ ، آپ ہائیکورٹ نہیں جاسکتے ۔ ہم نے ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ اگر ضرورت پڑے تو میں خود وہاں جاؤں گا ‘‘۔ تاہم بنچ نے متنبہ کیا کہ اگر یہ الزامات غیردرست پائے جائیں تو درخواست گذاروں کو اس کے نتائج کا سامنا کرنے تیار رہنا چاہئے ۔ سالیسٹر جنرل تُشار مہتا نے حکومت جموںو کشمیر کی پیروی میں بنچ کو بتایا کہ ریاست کی تمام عدالتیں حسب معمول کام کررہی ہیں ۔