کشمیر پر امریکی کانگریس کی قرارداد متوقع

   

Ferty9 Clinic

آسام میں متنازعہ این آر سی مسئلہ پر بھی اظہارتشویش، قرارداد روکنے مودی حکومت کی کوشش
واشنگٹن ۔ 16 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کو آئندہ چند دن تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی کانگریس میں مودی حکومت کی سرزنش کی جائے گی۔ ایوان نمائندگان کے بعض ارکان کشمیر پر ایک قراراداد لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہندوستان پر دباؤ ڈالتے ہوئے جمہوری نظریات پر قائم رہنے کیلئے مجبور کیا جائے گا۔ امریکی کانگریس نے کشمیر کے علاوہ آسام میں بے سہارا عوام کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے جہاں پر متنازعہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) کا مسئلہ پایا جاتا ہے۔ امریکی سینٹ میں سنیٹر کیریس ویان ہولین کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہ دینے ہندوستان کے انکار پر بھی مسئلہ اٹھایا جائے گا۔ ڈیموکریٹک رکن سنیٹر ہولین کو مودی حکومت نے کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بھی پہلے ہی سخت الفاظ میں ہندوستان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کیلئے 2020ء تیاری بل میں مسئلہ کو اٹھایا جائے گا۔ وزیرخارجہ ایس جئے شنکر آئندہ ماہ امریکہ کا دورہ کریں گے۔ گذشتہ 6 ہفتے کے دوران ان کا یہ دوسرا دورہ ہوگا۔ مودی حکومت امریکی کانگریس میں اس کے خلاف منظور کی جانے والی قرارداد کو رکوانے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی دوران سفیر ہرش وردھن سنگرلا اور ان کی ٹیم بھی امریکی کانگریس کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی ہفتہ ہرش وردھن نے اپنے امریکہ میں ہندوستانی گروپ کے ارکان، ہاؤس فارن افیئرس کمیٹی اور کسی بھی کانگریس رکن کو جو کشمیر پر دلچسپی رکھتے ہیں، سمجھانے کی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ایوان کے تقریباً 50 ارکان نے فیس بک اور ٹوئیٹر پر کشمیر کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا تھا۔ گذشتہ 72 دن کے مکمل بلیک آوٹ کے بعد جزوی طور پر عام زندگی بحال کی گئی۔ امریکی کانگریس میں کشمیر کے مسئلہ کو لیکر تشویش پائی جاتی ہے۔