کشمیری پنڈت چاہیں تو فوراً واپس آ سکتے ہیں: فاروق عبداللہ

   

حقیقت یہ ہے کہ اب اُن کی زندگیاں کہیں اور بس چکی ہیں، کشمیری پنڈت برادری کی جانب سے ہولوکاسٹ ڈے منایا گیا
جموں،19جنوری(یو این آئی) جموں وکشمیرنیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی پر کوئی قدغن نہیں، اور اگر وہ لوٹنا چاہیں تو کشمیر ہمیشہ ان کے لیے کھلا ہے ۔ تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ تین دہائیوں کے بعد شاید زیادہ تر خاندان وادی میں مستقل طور پر رہائش اختیار کرنے کا ارادہ نہ رکھیں، کیونکہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں اپنی نئی زندگیوں میں رچ بس چکے ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب کشمیری پنڈت برادری 19 جنوری کو 1990 کے بڑے اخراج کی یاد میں ‘ہولوکاسٹ ڈے ‘ منا رہی تھی-وہ دن جب دہشت گرد حملوں اور جان لیوا دھمکیوں نے ہزاروں خاندانوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔جموں میں پارٹی کے دو روزہ اجلاس کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ کون انہیں روک رہا ہے ؟ یہ اُن کا اپنا وطن ہے ۔ جو واپس آنا چاہیں، بے روک ٹوک آ سکتے ہیں۔ کئی کشمیری پنڈت تو آج بھی وادی میں اپنے گھروں میں مقیم ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز جگتی کیمپ کے نزدیک ہونے والے احتجاج کا بھی حوالہ دیا، جہاں درجنوں کشمیری پنڈت ’یوتھ 4 پنون کشمیر‘ کے بینر تلے جمع ہوئے اور ایک علیحدہ ہوم لینڈ کے قیام سمیت نسل کشی بل پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ جب فاروق عبداللہ سے ان مطالبات پر موقف پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ انہوں نے پنڈتوں کی باز آبادکاری کے لیے گھروں کی تعمیر اور سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر بعد میں حکومت کے گرنے کے ساتھ یہ ذمہ داری مرکز کے پاس چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ حالات نہیں بلکہ وقت کے ساتھ بدلتی ترجیحات ہیں۔ زیادہ تر پنڈت خاندان اب دہلی، جموں اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں آباد ہو چکے ہیں۔ ان کی نئی نسلیں تعلیم اور روزگار سے وابستہ ہیں۔ عمر رسیدہ افراد کے لیے بھی بہتر طبی سہولیات وہیں دستیاب ہیں۔ ایسے میں مستقل واپسی کا فیصلہ آسان نہیں۔ فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ بہت سے پنڈت کشمیر ضرور آئیں گے ، اپنے آبائی گھروں کا دورہ کریں گے ، مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ دوبارہ وہیں رہنے کا فیصلہ بھی کریں۔