نئی دہلی: جاریہ ماہ کے اوائل میں حدبندی کمیشن نے جموں و کشمیر میں جو اجلاس منعقد کیا تھا وہاں کشمیری پنڈت تنظیم نے ایک انوکھی تجویز رکھی ہے کہ وہاں ایک یا ایک سے زائد تیرتے (علیحدہ) حلقہ انتخاب کا قیام عمل میں لایا جائے جو صرف اور صرف کشمیری پنڈت مائیگرنٹس کے لیے مختص ہو اور انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بھی صرف مائیگرنٹس کو ہی اجازت دی جائے جیسا کہ سکم میں سانگھا نامی ایک حہقہ انتخاب ہے۔ کشمیری پنڈتوں کا مطالبہ ہے کہ سانگھا کی نوعیت پر ہی ایک تیرتا حلقہ انتخاب قائم کیا جائے تاکہ کشمیری پنڈتوں کو اس طرح ایک غیر معمولی صورت حال سے دوچار کمیونٹی تصور کرتے ہوئے اس پر عمل آوری کی جاسکے۔ ایک سینئر کشمیری پنڈت لیڈر اشونی کمار چورنگو نے بتایا کہ حدبندی کمیشن کو یہ تجویز پیش کی گئی ہے۔ چونکہ ہندوستان میں مذہب کی بنیاد پر تحفظات کی اجازت نہیں ہے لہٰذا ہم نے سکم کی مثال دی ہے جہاں لاما سانگھاس کے لیے ایک علیحدہ حلقہ انتخاب قائم کیا گیا ہے۔