سماجی جہد کار ڈاکٹر کے چرنجیوی اور ممتاز مورخ کے پانڈو رنگاریڈی کا بیان
حیدرآباد۔13اگست(سیاست نیوز) جموں او رکشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے مگر مودی حکومت نے آرٹیکل370اور35اے کی برخواستگی کے ذریعہ ریاست جموں اور کشمیر کو حاصل ہونے والے خصوصی اختیارات کو ختم کرنے کا جو فیصلہ کیاہے وہ نہ صرف کشمیر کی عوام بلکہ ملک کے جمہوری نظام کے لئے نقصاندہ ہے۔پریس کلب حیدرآباد میں دکن ڈیموکریٹک الائنس اور وائس آف تلنگانہ کے اشتراک سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سماجی جہدکار ڈاکٹر کولیرو چرنجیوی اور ممتا ز مورخ کیپٹن لنگالا پانڈو رنگا ریڈی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ڈاکٹر چرنجیوی نے مرکزی حکومت پر کشمیریوں کے حقوق کے ساتھ کھلواڑ کا الزام عائد کیا او رکہاکہ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک سب سے بڑا سانحہ ریاست جموں او رکشمیر سے ارٹیکل370اور35اے کی برخواستگی ہے۔ انہو ںنے مزید کہاکہ ملک میںایسی کئی ریاستیں جہاں پر علاقائی عوام کے حقوق کی حفاظت کے لئے آرٹیکل371نافذ کیاگیا ہے ۔ انہوں نے مثال کے طور پر اروناچل پردیش‘ میزورم‘ ناگالینڈ او رشمال مشرق کی بیشتر ریاستوں کا نام لیا ا ور کہاکہ مذکورہ ریاستوں میں 371کو سختی سے نافذ کرتے ہوئے مقامی عوام کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے ۔ بالخصوص قدرتی وسائل اورقبائیلی علاقوں کی اراضیات کو تحفظ فراہم کیاگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ ریاست جموں او رکشمیر میںارٹیکل371سختی کے ساتھ نافذ کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقوق کی حفاظت کرے ۔ ارٹیکل370اور35اے کی برخواستگی کو مرکز کی نریندرمودی حکومت کی سونچی سمجھی سازش کا حصہ قراردیا اورکہاکہ سرمایہ کاروں کو جموں اور کشمیر کے قدرتی وسائل پر قابض ہونے کاموقع فراہم کرنے کی غرض سے یہ اقدام اٹھایاگیا ہے جس پر کشمیری عوام کا پورا حق ہے ۔ ممتاز مورخ کیپٹن لنگالہ پانڈو رنگا ریڈی نے مودی حکومت کے اس اقدام کو بدبختانہ قراردیا او رکہاکہ ریاست جموں او رکشمیر کی مسلم اقلیت کو حاشیہ پر لاکر کھڑا کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے ارٹیکل 370اور35اے کو برخواست کرنے کاکام کیاہے۔
