کشن باغ تا راجندر نگر علاقہ گندگی اور کچرے کے مرکز میں تبدیل

   

برسوں سے عوام پریشان، بچوں کی صحت کو خطرہ، عوامی نمائندے اور عہدیداروں کی بے حسی
حیدرآباد ۔31۔ اگست (سیاست نیوز) حیدرآباد کے پرانے شہر کو استنبول کی طرز پر ترقی دینے کا حکومت نے بارہا اعلان کیا لیکن پرانے شہر کی صورتحال کا جائزہ لیں تو جگہ جگہ گندگی ، کچرے کے انبار اور سڑکوں پر موریوں کے بہتے پانی نے عوامی زندگی کو اجیرن کردیا۔ کشن باغ تا راجندر نگر کا راستہ گزشتہ کئی برسوں سے عوام کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور مقامی افراد کے حفظان صحت کو خطرہ بن چکا ہے ۔ کشن باغ روڈ پر سابق میں اسکالر ٹیکنو اسکول کے اطراف و اکناف کا علاقہ کچرے کی گنڈی میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ 24 گھنٹے کچرے کے ساتھ ساتھ موریوں کا گندا پانی بہتا ہے جس کے نتیجہ میں اس راستہ سے عوام کا گزرنا دشوار ہوچکا ہے ۔ سارے علاقہ میں بدبو اور تعفن کے نتیجہ میں عوام گزرنے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں۔ راستہ چلنے والوں کی مشکلات تو ہیں ہی لیکن اطراف و اکناف کے مکینوں کی حالت انتہائی دگرگوں ہے۔ مسلسل گندگی اور کچرے کے نتیجہ میں وبائی امراض پھوٹنے کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔ مقامی افراد نے شکایت کی ہے کہ خواتین اور بچوں میں کئی وبائی امراض رونما ہوئے ہیں اور کوئی گھر ایسا نہیں جو بیماریوں سے پاک ہو۔ کشن باغ سے راجندر نگر گزرنے والے افراد کو یہ علاقہ کسی گندے نالے سے کم دکھائی نہیں دیتا۔ راستہ کو عبور کرنے میں دشواریوں کو محسوس کرتے ہوئے مستقل طور پر گزرنے والے افراد نے متبادل راستے اختیار کرلئے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ کچرے کی نکاسی اور گندے پانی کے بہاؤ کو روکنے کیلئے مقامی عوامی نمائندوں کو بارہا توجہ دلائی گئی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ مقامی افراد اور دکانداروں کے لئے گندگی اور بدبو کے دوران کاروبار کرنا دشوار کن بن چکا ہے ۔ مقامی رکن اسمبلی اور کارپوریٹر کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں عوام کی صحت متاثر ہورہی ہے اور مقامی افراد نقل مقام پر مجبور ہوچکے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے حیدرآباد کو کچرے سے محفوظ شہر قرار دیا گیا لیکن کشن باغ تا راجندر نگر کا علاقہ گندگی اور کچرے کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اطراف کے سارے علاقوں کا کچرا اسی مقام پر منتقل کیا جارہا ہے ۔ اسکولی طلبہ کو روزانہ صبح اسی گندگی سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔ مقامی افراد نے شکایت کی کہ عوامی نمائندوں کے علاوہ بلدی عہدیداروں کو علاقہ کے ویڈیو اور فوٹوز بارہا روانہ کئے گئے اور ہمیشہ یہ تیقن دیا جاتا رہا کہ جلد مسئلہ کو حل کردیا جائے گا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو علاقہ میں مختلف وبائی بیماریوں پھوٹ پڑیں گی اور عوام کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ عوامی نمائندوں اور عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں مقامی افراد احتجاج پر مجبور ہوچکے ہیں۔ برسر اقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کی بے حسی پر عوام کو حیرت ہے۔ معمولی کاموں کے افتتاح کیلئے رکن پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے علاوہ کارپوریٹرس کو مدعو کیا جاتا ہے لیکن کشن باغ تا راجندر نگر کی ابتر صورتحال سے کسی کو دلچسپی نہیں ہے ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ کو چاہئے کہ وہ اس جانب فوری توجہ مبذول کرتے ہوئے بلدی حکام اور واٹر ورکس عہدیداروں کو مرمتی کاموں اور کچرے کی نکاسی کے لئے پابند کریں۔ علاقہ کو مستقل طور پر کچرے سے پاک کرتے ہوئے وہاں شجرکاری کی جائے تاکہ ماحول آلودگی سے پاک ہو۔صبح کے وقت میں ترکاری اور میوہ فروخت کرنے والے افراد کو علاقہ سے گزرنے اور وہاں اپنی ٹھیلہ بنڈیاں لگانے میں دشواری ہورہی ہے۔