خفیہ مفاہمت آشکار، ناراض قائدین بھی حیرت میں، بنڈی سنجے کے خلاف اعلیٰ طبقات کی بغاوت
حیدرآباد۔/4 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ بی جے پی میں ناراض سرگرمیوں اور بنڈی سنجے کے خلاف مہم کا فائدہ کس کو ہوا ؟۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال اس وقت موضوع بحث بن گیا جب بی جے پی ہائی کمان نے مرکزی وزیر سیاحت و کلچر کشن ریڈی کو تلنگانہ کا نیا صدر مقرر کیا۔ سیاسی مبصرین اور خود بی جے پی حلقوںکا ماننا ہے کہ پارٹی کے داخلی اختلافات کا چیف منسٹر کے سی آر نے فائدہ اٹھاکر اپنے قریبی کشن ریڈی کو تلنگانہ کی صدارت پر فائز کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ جی کشن ریڈی ابتداء ہی سے کے سی آر کے قریبی اور بااعتماد سمجھے جاتے ہیں۔ تلنگانہ تحریک اور پھر 2014 عام انتخابات کے بعد کشن ریڈی ،کے سی آر اور بی جے پی ہائی کمان کے درمیان رابطہ کا اہم ذریعہ تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی اہم مواقع پر کے سی آر نے کشن ریڈی کے ذریعہ ہائی کمان تک اپنا پیام پہنچایا اور کشن ریڈی نے بھی کے سی آر کی بھرپور مدد کی۔ بی جے پی کارکنوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ اسمبلی انتخابات میں کشن ریڈی کی شکست کے بعد 2019 میں سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے کامیابی میں کے سی آر کا اہم رول رہا اور بی آر ایس نے کمزور امیدوار کو میدان میں اتارا تھا۔ کشن ریڈی کے تقرر سے تلنگانہ میں بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت کی اطلاعات کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ بنڈی سنجے نے کے سی آر کے خلاف ہمیشہ سخت موقف اختیار کیا تھا اور انہوں نے آر ایس ایس کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈہ کو ترجیح دی۔ بنڈی سنجے نے کے سی آر اور ان کے افراد خاندان کو نشانہ بنایا اور انہیں جیل بھیجنے کی بات کہی تھی۔ بنڈی سنجے کا تعلق دراصل بی سی طبقہ سے ہے لہذا پارٹی میں موجود اعلیٰ طبقات کے قائدین نے ان کی قیادت میں الیکشن کا سامنا کرنے سے انکار کردیا۔ اعلیٰ طبقات نے ایٹالہ راجندر کو آگے کرتے ہوئے ہائی کمان کو صدر تبدیل کرنے کیلئے مجبور کیا۔ بی جے پی کے ناراض قائدین چاہتے تھے کہ نئے صدر کے طور پر ایٹالہ راجندر یا پھر رگھونندن راؤ میں کسی ایک کا انتخاب کیا جائے۔ اختلافات کا فائدہ اٹھاکر کے سی آر نے اپنے قریبی شخص کو تلنگانہ کی صدارت دلوائی۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی ہائی کمان بھی اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کے خلاف شدت سے مقابلہ کے حق میں نہیں ہے کیونکہ لوک سبھا انتخابات میں تلنگانہ سے زائد نشستیں دلانے کا کے سی آر نے وعدہ کیا ہے بشرطیکہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نرم موقف اختیار کرے اور کے سی آر کو تیسری مرتبہ کامیابی میں مدد کرے۔ کشن ریڈی کے نام کے اعلان پر بی آر ایس کے کئی قائدین نے کھل کر نہ سہی لیکن خوشی کا اظہار کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کشن ریڈی صدارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد کے سی آر حکومت کے بارے میں کیا موقف اختیار کریں گے۔ر