کل ہند ادارہ برائے طبی خدمات کے ڈاکٹرس کی ہڑتال ختم

   

مرکزی وزیرصحت سے ملاقات اور مطالبات کی یکسوئی کے تیقن پر اقدام

نئی دہلی ۔ 4 اگست (سیاست ڈاٹ کام) صدر کل ہند ادارہ برائے طبی خدمات نے اپنی ہڑتال ختم کردی اور اتوار کے دن اپنی خدمات سے رجوع ہوگئے جبکہ مرکزی وزیرصحت ہرش وردھن نے ان کے اندیشوں کے ازالہ کا تیقن دیا جو قومی طبی بل کے بارے میں ڈاکٹروں کو ہیں۔ ڈائرکٹر ایمس نے اپنے ایک اعلامیہ میں کہا کہ صدر ڈاکٹرس اسوسی ایشن نے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ مرکزی وزیر نے تیقن دیا ہیکہ ان کے اندیشوں کا قومی طبی کمیشن کے بارے میں قانون سازی کا مسودہ تیار کرتے وقت ان کے اندیشوں کا ازالہ کردیا جائے گا۔ مرکزی وزیر نے یہ بھی کہا کہ ایمس کے نمائندے برائے طلبہ یونین سے قانون پر دستخط کرنے سے پہلے قواعد و ضوابط کے سلسلہ میں مشاورت کی جائے گی۔ ہرش وردھن نے ریزیڈنٹ ڈاکٹرس اسوسی ایشنس برائے ایمس صدرجنگ ہاسپٹل کے وفد سے ملاقات کی اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنی ہڑتال مریضوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ختم کردیں گے۔ صفدر جنگ کے ریزیڈنٹ ڈاکٹر ہنوز غیرضروری خدمات پر حاضر نہیں ہوئے تاہم ذرائع کے بموجب ہاسپٹل کے ریزیڈنٹ ڈاکٹرس امکان ہیکہ ہڑتال ختم کرنے کے بارے میں گورننگ باڈی کے اجلاس میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ کل ہند ادارہ برائے طبی علوم سے ملحق ڈاکٹرس نے اپنی ہڑتال ختم کردی ہے۔ وزیرصحت نے وضاحت کی کہ ایم ایم سی مسودہ قانون پر انہیں کیا اعتراضات ہیں اور ان کے اندیشوں کے بارے میں کیا تیقن دیا گیا ہے۔ قواعد و ضوابط کی تشکیل کے وقت طلبہ یونین کے عہدیداروں سے مشاورت کی جائے گی۔ ایمس کے اعلامیہ میں دفعہ 14(1) پیرا (2) کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہیکہ جو امیدوار ایمس نئی دہلی کے مقرر کردہ پیمانوں کے مطابق نہ ہوں انہیں داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ ایمس کی جانب سے دفعہ 32 (کمیونٹی ہیلت پرووائٹر) کے مطابق امتحان منعقد کیا جائے گا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ مرکزی وزیرنے ہمارے نمائندوں کو اس بات کا بھی تیقن دیا ہیکہ ایمس کے طلبہ یونین کے نمائندوں سے قواعد و ضوابط کے تعین کے وقت مشاورت کی جائے گی جو قانون کی دفعہ 57 کے مطابق ہوگی۔

گورننگ باڈی کا اجلاس کے عہدیدار فیصلہ کریں گے کہ فوری اثر کے ساتھ ہڑتال واپس لی جائے گی اور خدمات پر رجوع ہوجائیں۔ قومی طبی بل گنجائش فراہم کرتا ہیکہ ایک قومی میڈیکل کمیشن موجودہ ایم سی آئی کی جگہ لینے تشکیل دیا جائے اور ادویہ کی سربراہی، طبی پیشے اور طبی اداروں کے بارے میں قواعد و ضوابط کا تعین کیا جائے۔ ڈاکٹر بل میں چند ترمیمات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کے بموجب اگر ترمیمات نہ دی جائیں تو بل کے نتیجہ میں طبی تعلیم انحطاط پذیر ہوجائیں گی اور حفظان صحت خدمات میں معیار برقرار نہیں رکھا جاسکے گا۔ دفعہ 32(1)، 2 اور 3 کی مخالفت کرنے والے گروپ کی جس کے بموجب عصری ادویہ استعمال کرنے والے ڈاکٹروں کی حوصلہ شکنی ہوگی اگر فرضی ڈاکٹروں کو بھی عصری ادویہ کے ذریعہ حفظان صحت خدمات فراہم کرنے کیلئے لائسنس جاری کیا جائے۔ ان کے بموجب جو لوگ ایم بی بی ایس کی ڈگری نہ رکھتے ہوں انہیں لائسنس جاری کرنا مناسب نہ ہوگا۔ اس سلسلہ میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ وہ اس بات کے بھی مخالف ہیں کہ نشستوں کے پُر کرنے کیلئے معیار کے ساتھ سمجھوتہ کیا جائے اور خانگی میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں سے الحاق رکھنے والوں کیلئے 50 فیصد کوٹہ مقرر کیا جائے اور کونسل کے منتخبہ ارکان کی نمائندگی میں کمی کرکے اسے 75 فیصد کردیا جائے گا۔ ان کا مطالبہ ہیکہ ایم سی آئی کا کوٹہ 20 فیصد اور این ایم سی و خودمختار بورڈس کو باقیماندہ فیصد بطور کوٹہ مختص کیا جائے۔