ذات پات کی بنیاد پر اراضی الاٹ کرنے کی مخالفت، تعمیری کاموں کے خلاف عبوری احکامات
حیدرآباد ۔28۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے کما اور ویلما طبقات کیلئے حکومت کی جانب سے اراضی الاٹمنٹ کے احکامات پر حکم التواء جاری کیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے ذات پات کی بنیاد پر طبقات کو اراضیات کے الاٹمنٹ پر اعتراض جتایا ۔ عدالت نے ریمارک کیا کہ اس طرح اراضیات کا الاٹمنٹ ایک طرح کے قبضہ کے مماثل ہے۔ اراضیات پر تعمیری کام شروع نہ کرنے کے لئے عدالت نے عبوری احکامات جاری کئے ۔ اس سلسلہ میں حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت 2 اگست کو مقرر کی گئی ۔ واضح رہے کہ کما اور ویلما طبقات کی تنظیموں کیلئے حکومت نے فی کس 5 ایکر اراضی الاٹ کرتے ہوئے 2021 ء میں جی او جاری کیا گیا ۔ کاکتیہ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر ونائک ریڈی نے اس فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ۔ چیف جسٹس اجل بھویاں کی زیر قیادت ڈیویژن بنچ نے مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کی اور آج حکم التواء جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا جی او دراصل سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے کہا کہ قطعی فیصلہ تک جی او پر حکم التواء برقرار رہے گا۔ ر
کما طبقہ کی تنظیم کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی اجازت دی گئی۔ر