کمبھ کا کام ہندو ٹھیکیداروں کو دیا جائے: اکھاڑہ پریشد

   

سکھ، جین اور بدھ مت کے ٹھیکیداروں کو کام دینے کی حمایت
پریاگ راج: اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشد (اے بی اے پی)، جو ملک کے 13 ہندو اکھاڑوں کی اعلیٰ گورننگ باڈی ہے، نے مطالبہ کیا ہے کہ مہاکمبھ 2025 سے متعلق تمام پراجکٹ ہندو ٹھیکیداروں کو دیئے جائیں۔ شری نیرموڑھی انی اکھاڑہ کے صدر اور اے بی اے پی کے جنرل سکریٹری مہنت راجندر داس نے کہا کہ کمبھ ہندو برادری کے عقیدے، یقین اور لگن کا مرکز ہے، اس لیے کمبھ سے متعلق تمام منصوبے اور کام ہندو برادری کے ٹھیکیداروں کو دیئے جائیں۔مہنت راجندر داس نے کہا کہ ہندو برادری کے لوگوں کو کمبھ کے احاطے میں اپنی دکانیں اور تنظیموں کو کیمپ قائم کرنے کے لئے ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو پہلے اے بی اے پی کے اجلاس میں اٹھائیں گے۔ اس کے علاوہ داس کا کہنا ہے کہ ہندوؤں کے علاوہ سکھ، جین اور بدھ مت کے ٹھیکیداروں کو بھی کام دیا جا سکتا ہے۔ مہنت راجندر داس نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کرنے اور اس سلسلے میں میمورنڈم پیش کرنے کے لیے وقت مانگا ہے۔