کمسن بچے کورونا کے خوف اور قواعد سے بے نیاز

   

لاک ڈاؤن کے باعث کھیل کود و دیگر سرگرمیوں سے محرومی کا احساس
حیدرآباد۔ لاک ڈاؤن اور وباء کے دوران بچے اپنی زندگیو ںمیں کئی چیزوں کی کمی کو محسوس کر رہے ہیں اور انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہورہا ہے کہ وہ اپنے بچپن کے اس وقت کو دوبارہ حاصل نہیں کرپائیں گے۔ بچوں کے طرز زندگی اور کورونا وائرس وباء اور لاک ڈاؤن کے سبب ان کے حالات پر سروے کرنے والی تنظیموں کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2.3 فیصد بچے ایسے ہیں جو کورونا وائرس کے دوران کورونا وائرس کے اصولوں پر کوئی عمل نہیں کر رہے ہیں جبکہ کئی بچوں کے پاس لاک ڈاؤن کے دوران کرنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ 1.9 فیصد بچے ایسے ہیں جو کہ عام حالات کی طرح ہی زندگی گذار رہے ہیں۔ 0.1 بچے ایسے ہیں جو کہ تہوار اور تقاریب کا حصہ بننے کے لطف سے خود کو محروم تصور کر رہے ہیں جبکہ 0.3 فیصد بچوں کی روزانہ کی مصروفیات میں کوئی تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی ہے گھروں سے باہر کھانے اور ریستوران کے کھانے سے لطف اٹھانے والے بچوںمیں 1.4فیصد بچے باہر کھانے کی کمی کو محسوس کر نے لگے ہیں۔ 0.8 بچے ایسے ہیں جو کہ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے دوران اپنے آبائی مقامات کا سفر کرنے سے محروم رہے ہیں اور ان میں اس کا شدت سے احساس پایا جانے لگا ہے۔لاک ڈاؤن کے دوران گھر سے کام کاج اور تفریحی مقامات سے کام کاج کرنے کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کا اثر بچوں پر بھی محسوس کیا جا رہا ہے اور 2.3 فیصد بچوں نے لاک ڈاؤن اور وباء کے دوران تفریحی سرگرمیوں اور تعطیلات کے لطف سے محروم رہنے کے سبب وہ تعطیلات اور تفریح کی کمی کو محسوس کر رہے ہیں۔ گھروں کے قریب اپنے پڑوسی دوستوں اور بچوں کے ساتھ 7.6 فیصد بچے گھروں سے باہرکھیلنے اور گھومنے کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔ اسی طرح 11.8 فیصد بچے اپنے محلہ یا کالونی میں ہی گھروں سے باہر کھیل کود کی سرگرمیوں اور ان سے ملاقاتوں کی کمی محسوس کرر ہے ہیں۔1.5 فیصد بچے اپنے رشتہ داروں کے گھروں کو جانے اور وہاں قیام کے عمل کی کمی کو محسوس کر رہے ہیں کیونکہ کورونا وائرس کی وباء اور لاک ڈاؤن کے سبب ہر کوئی اپنے گھروں کی حد تک خود کو محدود کئے ہوئے ہے اور کسی کے پاس آنے جانے سے پرہیز کرنے لگا ہے۔ اپنے دوستوں اور ہم جماعت ساتھیوں سے ملاقاتوں اور گپ شپ کی کمی کو شدت سے محسوس کرنے والے بچوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور ان کا فیصد 45.6 ریکارڈ کیا گیا ہے کیونکہ اسکول جانے والے بچوں کی ملاقاتیں اکثر اسکول اور کلاس میں ہی ہوا کرتی ہیں اور گذشتہ دیڑھ سال سے مسلسل اسکول بند ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں آن لائن ہوکر رہ گئی ہیں۔ تیراکی ‘ میدانوں میں کھیل کود‘ کرکٹ‘ فٹ بال اور دیگر ایسے کھیل جو بچے میدانوں میں کھیلا کرتے ہیں ان کی کمی کو محسوس کرنے والے بچوں کا فیصد 3.1 ریکارڈ کیا گیا ہے ۔کورونا وائرس وباء کے دوران بچوں کی سرگرمیوں اور ان کی معمول کے متعلق سروے کرنے والی کمپنیوں کے ماہرین کا کہناہے کہ ہندستان میں بچوں کی سرگرمیوں اور ان کے نفسیات پر ہونے والے لاک ڈاؤن کے اثرات کو دور کرنے کیلئے وسیع منصوبہ بندی کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔