کنٹومنٹ علاقہ میں پانی اور برقی سربراہی بند کردینے کے ٹی آر کا انتباہ

   

مرکزی حکومت تلنگانہ کو دوسرے ملک کا حصہ تصور کررہی ہے، اسمبلی میں وزیر کی برہمی

حیدرآباد ۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے شہر حیدرآباد کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے کنٹومنٹ عہدیداروں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عہدیداروں کی جانب سے من مانی کرنے پر برقی اور پینے کے پانی کی سربراہی بند کردینے کا انتباہ دیا۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اسمبلی حلقہ کاروان کی نمائندگی کرنے والے مجلس کے رکن اسمبلی کوثر محی الدین کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ایک طرف کنٹونمنٹ میں چک ڈیم تعمیر کرتے ہوئے پانی کو روکنے سے ندیم کالونی جھیل میں تبدیل ہورہی ہے۔ شاہ حاتم تالاب سے گولکنڈہ کے نیچے پانی چھوڑنے کی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے عہدیدار اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ شہر کی ترقی میں مرکزی حکومت کے دو ادارے کنٹونمنٹ اور اے ایس آئی کے عہدیداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔ یہ عمل ٹھیک نہیں ہے۔ قابل مذمت ہے۔ تلنگانہ دوسرے ملک کا حصہ ہونے جیسا مرکزی حکومت رویہ اختیار کی ہوئی ہے۔ حیدرآباد میں رہنے والے کنٹونمنٹ کو مل جل کر رہنا چاہئے مگر عہدیداروں کی جانب سے من مانی کی جارہی ہے۔ بڑے پیمانے پر سڑکیں بند کی جارہی ہیں۔ نالوں پر چیک ڈیم تعمیر کیا جارہا ہے جس کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عوام کی خاطر کچھ بھی کرنے تیار ہیں۔ ضرورت پڑنے پر پانی اور برقی کی سربراہی بھی بند کردی جائے گی۔ کے ٹی آر نے اسپیشل چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ فوری کنٹونمنٹ کے عہدیداروں کو طلب کرکے تبادلہ خیال کریں۔ ان کی جانب سے مثبت ردعمل کا اظہار نہ ہونے پر سخت کارروائی کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ترقی میں کوئی تعاون نہیں دیا جارہا ہے مگر ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔ن