کواڑی گوڑہ میں قبرستان کی اراضی پر ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کا منصوبہ

   

وقف اراضی حوالے نہیں کی جاسکتی، ریاستی وزیر سرینواس یادو اور محمد سلیم کا دورہ
حیدرآباد۔26 ۔اگست (سیاست نیوز) قبرستان کی اراضی پر ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کی تجویز کو تلنگانہ وقف بورڈ نے مسترد کردیا ۔ بنسی لال پیٹ کواڑی گوڑہ میں قبرستان تھرتھرے شاہ کی تقریباً 15 ایکر وقف نوٹیفائیڈ اراضی موجود ہے۔ اراضی کے کچھ حصہ پر ناجائز قبضے ہوئے ہیں اور 600 مربع گز کھلی اراضی پر حکومت کی جانب سے ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ مقامی افراد کے دباؤ کے تحت وزیر انیمل ہسبنڈری سرینواس یادو نے کھلی اراضی پر ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا۔ وقف اراضی پر تعمیر کے تنازعہ کے حل کیلئے سرینواس یادو نے صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم اور دیگر عہدیداروں کے ہمراہ اراضی کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھلی اراضی پر مکانات کی تعمیر سے غریبوں کو فائدہ ہوگا۔ غیر مجاز قبضوں کو روکنے کیلئے مکانات کی تعمیر سے بہتر کوئی حل نہیں۔ معائنہ کے موقع پر وقف بورڈ کے عہدیداروں نے ریکارڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وقف گزٹ مورخہ 9 فروری 1989 ء کے سیریل نمبر 2610 کے تحت قبرستان درج اوقاف ہے۔ قبرستان کی حصاربندی مکمل ہوچکی ہے ، باوجود اس کے حکومت 600 گز کھلی اراضی پر مکانات تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ عہدیداروں نے واضح کردیا کہ قبرستان کی اراضی ڈبل بیڈروم مکانات کیلئے الاٹ نہیں کی جاسکتی۔ وقف اراضی کا موقف تبدیل کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے اور وقف بورڈ اپنے موقف پر قائم ہے۔ سرینواس یادو نے عہدیداروں سے کہا کہ ریاست میں دیگر مقامات پر ہزاروں ایکر وقف اراضی پر قبضے ہوچکے ہیں اور وقف بورڈ تحفظ میں ناکام رہا۔ غریبوںکے لئے وقف کی کھلی اراضی الاٹ کرنے میں اعتراض کیوں ہے جبکہ اراضی پر قبور موجود نہیں۔ مقامی افراد اس موقع پر جمع ہوگئے اور وقف بورڈ عہدیداروں سے بحث و تکرار کرنے لگے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اس مسئلہ پر بورڈ کے اجلاس میں غورکرنے کا تیقن دیا۔ انہوں نے ریاستی وزیر کو یقین دلایا کہ اس معاملہ میں وقف بورڈ ارکان کی رائے حاصل کرتے ہوئے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ وقف بورڈ عہدیداروں کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈ کے باوجود مقامی افراد کا اصرار تھا کہ تعمیر کی اجازت کھلی اراضی پر دی جائے ۔ R