کورونا اور لاک ڈاون کے اثرات طلبا کا خانگی سے سرکاری اسکولس کی سمت جھکاو

   

حیدرآباد۔9اگسٹ(سیاست نیوز) طلبا کو خانگی اسکولوں سے اب سرکاری اسکولوں میں داخل کیا جا رہاہے ۔ خانگی اسکول اس صورتحال سے تشویش میں مبتلاء ہونے لگے ہیں۔ تلنگانہ میں تعلیمی سال 2021-22کے دوران جملہ 9718طلبہ نے سرکاری اسکولو ںمیں داخلہ لیا اور ان میں 40 فیصد ایسے ہیں جو خانگی اسکولوں سے نام حذف کرواتے ہوئے سرکاری اسکول آئے ہیں۔ سابق میں خانگی اسکول انتظامیہ کی جانب سے فیس کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر طلبا کو خارج کرتے تھے لیکن اب کورونا وباء کے دور میں اولیائے طلبہ اور سرپرست خانگی اسکولوں سے بچوں کو نکال کر سرکاری اسکولوں میں داخلہ دلوا رہے ہیں ۔کورونا وائرس ‘لاک ڈاؤن سے پیدا صورتحال کے سبب سرکاری اسکولوں میں داخلہ لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔کمحکمہ تعلیم کی تفصیلات کے مطابق ریاست میں جملہ 9718 طلبہ نے سرکاری اسکولوں میں داخلہ حاصل کیا ہے جن میں 3408 ایسے طلبہ ہیں جو پہلے خانگی اسکولوں میں زیر تعلیم تھے لیکن اب وہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے لگے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی مختلف وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ معاشی حالات بھی ہیں لیکن اہم وجہ یہ ہے کہ اب جبکہ سرکاری اور خانگی اسکولوں میں تعلیم آن لائن ہورہی ہے ہے اسی لئے والدین سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے علاوہ فیس کی ادائیگی سے محفوظ رہنے ایسا کر رہے ہیں۔ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیمو ںکا کہناہے کہ صرف ایس ایس سی میں نہیں بلکہ سی بی ایس سی اور آئی سی ایس سی میں بھی طلبہ خانگی اسکولوں سے نکل کر سرکاری اسکولو ںمیں داخلہ حاصل کرنے لگے ہیں کیونکہ دونوں ہی جگہ انہیں آن لائن تعلیم سے ہی استفادہ حاصل کرنا ہے۔