کورونا سے محفوظ رہنے والے بچوں میں نئی بیماری کا خطرہ

   

Ferty9 Clinic

ملٹی سسٹم انفلامنٹری سنڈروم میںبتدریج اضافہ ۔ ہمہ وقت چوکسی سے بچاؤ ممکن

حیدرآباد۔/4 نومبر، ( سیاست نیوز) قدرتی طور پر کورونا وائرس بچوں پر اثر انداز نہیں ہوسکا لیکن اب کورونا کے بعد بچوں میں ایک نئی بیماری کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ملٹی سسٹم انفلامنٹری سنڈروم ( ایم آئی ایس ) کا خطرہ بچوں میں بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اس طرح کے کیسوں میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حالانکہ مرض شدت اختیار نہیں کرگیا اور نہ ہی اس کے کیسوں میں زیادتی ہوئی ہے بلکہ آہستہ سے اضافہ ضرور ہورہا ہے۔ حالیہ دنوں اس طرح کے ایم ٹی ایس کے 5 نئے کیس درج کئے گئے اور ان بچوں کا گاندھی ہاسپٹل میں علاج جاری ہے۔ یہ مرض کچھ نیا نہیں ہے بلکہ گذشتہ کے مقابل اس کی علامات مختلف ہیں جسے ہر وقت جانچ اور چوکسی سے قابو میں رکھا جاسکتا ہے اور فوری علاج کے ذریعہ اس سے بچاؤ کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ( ایم آئی ایس ) سے تشویش کی بات نہیں بلکہ لاپرواہی خطرناک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ ٹسٹ کرنے تک اس کی شناخت مشکل ہے۔ ایم آئی ایس کے ذریعہ متاثرہ بچوں میں عام طور پر شدید پیٹھ کا درد، پیروں اور پیٹ کا پھولنا، قئے ، تیز بخار، زبان کا گلابی رنگ میں بدلنا اور دیگر علامات پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جسم کے ایک حصہ میں اچانک تبدیلی کا واقع ہونا۔ ہاتھوں اور پیروں کو حرکت دینے میں دشواری۔ ان علامات کا شکار 5 بچوں کو گذشتہ دنوں گاندھی ہاسپٹل میں شریک کروایا گیا ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بچوں کی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی کوئی لاپرواہی نہ کریں۔ کورونا کے سبب بچوں میں کوئی مسئلہ نہیں رہا لیکن اس کے بعد کے حالات خطرناک رجحانات کی طرف اشارہ کررہے ہیں جن میں ایک ایم آئی ایس سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ اگر فوری طور پر ان علامات کے ظاہر ہونے کے بعد علاج نہ کروایا گیا اور تاخیر کی گئی توپھر اس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ بچوں کی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی تبدیلی ہو یا پھر یہ علامات بچوں میں ظاہر ہوں تو فوری چوکس ہوجائیں اور علاج کروالیں۔ ع