کورونا علاج کیلئے شرحوں پر نظرثانی سے حکومت کا انکار

   

خانگی ہاسپٹلس نمائندوں کی وزیر صحت سے ملاقات، غریبوں کے علاج کو یقینی بنانے متوازن شرحیں
حیدرآباد۔ 19 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے کورونا ٹسٹ اور علاج کے سلسلہ میں موجودہ شرحوں پر نظرثانی سے متعلق کارپوریٹ ہاسپٹلس کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ وزیر صحت ای راجندر سے کارپوریٹ ہاسپٹلس کے نمائندوں نے ملاقات کی اور موجودہ شرحوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ زائد شرحوں کی صورت میں عوام کارپوریٹ ہاسپٹلس میں علاج کے اخراجات برداشت نہیں کرپائیں گے۔ کارپوریٹ ہاسپٹلس نے کہا کہ وہ کورونا کے مریض کے علاج کے دوران شخصی تحفظ سے متعلق آلات، ادویات، اسپیشل رومس اور دیگر سہولتوں کے چارجس علیحدہ طور پر وصول کریں گے۔ ہاسپٹلس کا کہنا ہے کہ حکومت کی مقرر کردہ شرحوں پر علاج کرنا کارپوریٹ ہاسپٹلس پر زائد بوجھ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ علاج کے دوران اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ وائرس ہاسپٹل میں دوسروں کو متاثر کردے۔ لہٰذا سخت احتیاطی اقدامات کی ضرورت پڑتی ہے۔ سرکاری ہاسپٹلس میں زیادہ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا جانا چاہئے۔ بتایا جاتا ہے کہ مریض کی آمد کے ساتھ ہی ہاسپٹلس اخراجات برداشت کرنے کی سکت کے بارے میں معلومات حاصل کررہے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد جو اخراجات برداشت نہیں کرسکتے انہیں بیڈ فراہم کرنے سے انکار کیا جارہا ہے۔ ہاسپٹلس کے بیڈس کی عدم دستیابی کا بہانا آسان ہے۔ صرف مخصوص اور دولتمند مریضوں کو ہی یہ ہاسپٹلس علاج کے لیے قبول کررہے ہیں۔ ہاسپٹلس کا کہنا ہے کہ حکومت کو کم از کم ایسے مریضوں کے انشورنس کو یقینی بنانا چاہئے۔ وزیر صحت ای راجندر نے ہاسپٹلس کو پابند کیا کہ وہ حکومت کی شرحوں پر علاج کریں تاکہ خانگی شعبے میں کورونا کے مریضوں کو شفایاب کیا جاسکے۔