رئیل اسٹیٹ شعبہ کا اظہار اطمینان ،روزگار کے مواقع میں اضافہ سے رہائشی ضرورتوں کی مانگ
حیدرآباد: کورونا وباء اور لاک ڈاؤن سے یوں تو زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوا ہے لیکن رئیل اسٹیٹ شعبہ کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ شہر کے بعض علاقوں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا گیا ۔ لاک ڈاؤن کے باوجود رئیل اسٹیٹ کا شعبہ بری طرح متاثر نہیں ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کوکٹ پلی ، ہائی ٹیک سٹی ، بیگم پیٹ اور کومپلی کے علاقوں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں غیر متوقع طور پر اضافہ درج کیا گیا ۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ سے وابستہ افراد نے بتایا کہ مذکورہ علاقوں میں قیمتوں میں فی مربع فٹ 500 تا 1500 روپئے کا اضافہ ہوا ہے۔ لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد رئیل اسٹیٹ شعبہ کو اندیشہ تھا کہ صورتحال کے معمول پر آنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ لیکن بہت کم عرصہ میں یہ شعبہ قیمتوں میں اضافہ کے باعث بحال ہوچکا ہے ۔ نئی جائیدادوں کی خریدی کے رجحان میں اضافہ رئیل اسٹیٹ کاروبار کیلئے اچھی خبر ثابت ہوا ہے۔ غیر زرعی اراضیات کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں رئیل اسٹیٹ شعبہ کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت نے جو شرائط مقرر کی ہیں، ان کی تکمیل ہر رئیل اسٹیٹ تاجر کیلئے آسان نہیں ہے ۔ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں سرمایہ کاری متاثر ہونے کا امکان ہے ۔ رئیل اسٹیٹ تاجروں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد رہائش اور تجارت کے اعتبار سے ملک میں ترجیحی شہر کا درجہ رکھتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں رہائشی علاقوں میں دفاتر اور رہائشی مقامات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام زائد قیمت پر جائیدادوں کی خریدی کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں۔ بعض تاجروں نے کہا کہ تعمیری میٹریل اور لیبر کے چارجس میں اضافہ کے سبب جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایل آر ایس اور دیگر شرائط کے نتیجہ میں رئیل اسٹیٹ کے بعض پراجکٹ سست روی کا شکار ہوئے اور اگر حکومت شرائط میں نرمی نہ کریں تو پراجکٹس تعطل کا شکار ہوجائیں گے۔ رئیل اسٹیٹ تاجروں نے حکومت سے مانگ کی ہے کہ رجسٹریشن کے شرائط میں نرمی کریں۔
