ہندوستان ‘ بنگلہ دیش ‘ پاکستان و دیگر ایشیائی ممالک میں صورتحال ہنوز دھماکو نہ ہونے کا ادعا
نئی دہلی، 6 جون (سیاست ڈاٹ کام ) عالمی تنظیم صحت نے کورونا وبا کو کنٹرول کرنے حکومت کے اقدامات کی ستائش کی اور کہا ہے کہ ہندوستان میں ابھی اس وبا کے کیسز میں کوئی انتہائی دوگنا اضافہ نہیں ہوا ہے ، لیکن اس کا خطرہ برقرارہے اور مکمل احتیاط کی ضرورت ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے ہیلتھ ڈیزاسٹر پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر ڈاکٹر مائیکل جے ریان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ہندوستان میں تین ہفتوں میں کیسز دوگنے ہو رہے ہیں اور اس میں انتہائی اضافہ نہیں ہو رہا ہے ، بلکہ کیسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستان ، بنگلہ دیش ، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے دوسرے گنجان آبادی والے ممالک میں وبائی صورتحال اب بھی دھماکہ خیز نہیں ہے ، بلکہ اس کے ہونے کا خطرہ برقرار ہے ۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر معاشرتی سطح پرکرونا انفیکشن شروع ہوجائے گا تو یہ بہت تیزی سے پھیلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے اقدامات بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں کارگر ثابت ہوئے ہیں۔ اب جبکہ پابندیوں میں نرمی دی جارہی ہے اور لوگوں کی نقل و حرکت پھر شروع ہوگئی ہے تو ، خطرہ ہمیشہ باقی رہتا ہے ۔ ملک میں کافی مقامی عوامل ہیں۔بڑی تعداد میں ملک کے اندر بے گھر ہونے کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ، شہری ماحول میں گنجان آبادی ہے اور بہت سارے مزدوروں کے پاس روز کام پر جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے چیف سائنسٹسٹ ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن نے کہا کہ ہندوستان میں دو لاکھ سے زیادہ کیس ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد بڑی معلوم ہوتی ہے ، لیکن 130 کروڑ کی آبادی والے ملک میں یہ اب بھی زیادہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان تنوع سے بھرا ہوا ایک بڑاملک ہے ۔
ایک طرف شہروں میں بہت گنجان آبادی ہے ، دوسری طرف دیہی علاقوں میں آبادی بہت کم ہے ۔ صحت کا نظام ہر ریاست میں مختلف ہے ۔ کووڈ ۔19 کو کنٹرول کرنا ان تمام وجوہات کی بناء پر کافی چیلنج بھرا ہے ۔لاک ڈاؤن اور پابندیوں میں نرمی کے ساتھ ، یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کئے جائیں اور لوگ اس ضرورت کو سمجھ رہے ہوں۔ اگر لوگوں کے طور طریقوں میں بڑی تبدیلی لانی ہے تو ا نہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ انہیں ایسا کیوں کرنا چاہئے ۔ڈاکٹر سوامی ناتھن نے کہا کہ ملک کے کئی شہری علاقوں میں سوشل ڈسٹنسنگ پرعمل نہیں ہوسکتا۔اسلئے یہ ضروری ہے کہ لوگ اپنے چہرے کو ڈھانک کرباہرنکلیں۔ جہاں دفاترمیں، پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران اور تعلیمی اداروں میں سوشل ڈسٹنسنگ پر عمل نہیں ہوسکتا ہے ،وہاں بھی چہرہ ڈھکنا ضروری ہے ۔۔ ہر ادارہ ،آرگنائزیشن اور صنعت کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کام شروع کرنے سے پہلے انہیں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔