کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے بچے ذہنی و جسمانی تناؤ کا شکار

   

سماجی رابطہ ، جسمانی سرگرمیاں ، کھیل کود اور ساتھیوں سے محرومی کا شدت سے احساس
حیدرآباد۔ کورونا وائرس کی وباء کے دوران بچوں کو ذہنی اور جسمانی تناؤ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور بچے کورونا وائرس کی وباء کے سبب پیدا شدہ صورتحال اور لاک ڈاؤن سے بری طرح سے متاثر ہونے لگے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے مسائل پر اب تک کوئی بحث نہیں ہورہی ہے جو کہ ان کے مسائل میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے ۔ کورونا وائرس لاک ڈاؤن نے بچوں سے صرف اسکول کا ماحول نہیں چھینا ہے بلکہ مجموعی اعتبار سے اس وباء کے دور میں ان سے ان کا بچپن چھینا جانے لگا ہے ۔ لاک ڈاؤن کے سبب بچو ںکو درپیش مسائل میں سب سے اہم مسئلہ سماجی رابطہ‘ جسمانی سرگرمیاں ‘ کھیل کود اور اپنے ساتھیوں سے ملاقات نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے ان کی ذہنی حالت مستحکم نہیں رہ پا رہی ہے ۔ بچوں میں عام طور پر مایوسی دیکھی جا رہی ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔ چائیلڈ رائٹس اینڈ یو(CRY) اور ٹا ٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسس (TISS) کی جانب سے کئے گئے ایک سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ لاک ڈاؤن کے سبب شہری علاقوں کے بچوں میں مایوسی دیکھی جانے لگی ہے اور جسمانی سرگرمیوں کے نہ ہونے کے سبب وہ سست بھی ہونے لگے ہیں علاوہ ازیں انہیں گھروں میں قید و بند کی زندگی سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی ہے۔محققین جنہوں نے بچوں کی نفسیات اور انہیں درپیش مستقبل کے چیالنجس پر تحقیق کی ہے ان کا ماننا ہے کہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لئے معمول کے حالات پر لوٹنا انتہائی موہوم ہونے لگا ہے کیونکہ جب اسکولوں کی کشادگی عمل میں لائی جائے گی اور طلبہ واپس اسکول پہنچیں گے انہیں کئی ایک مسائل کا سامنا ہوگا۔اسکولوں میں از سر نو بچوں کا اندراج غریب اور متوسط طبقہ کے لئے بہت بڑا چیالنج ہوگا اور اس چیالنج سے نمٹنے کے لئے اولیائے طلبہ اور سرپرست اسکولوں کے اخراجات کے متحمل نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں انسانیت کے اس سب سے بڑے بحران کے باوجود ہندستان میں طلبہ کے مسائل بالخصوص ان کے تعلیمی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے جوکہ ہندستان میں بچوں کے مستقبل کے متعلق سنجیدگی نہ ہونے کا ثبوت ہے۔کھلی فضاء میں سانس لینے سے محروم بچے جو کہ کورونا وائرس کی وباء سے قبل آزادانہ زندگی گذارا کرتے تھے وہ خود کو آزادی سے محروم تصور کر رہے ہیں اور انہیں اس با ت کا شدت سے احساس ہورہاہے کہ وہ تعلیم ہی نہیں بلکہ کئی دیگر سرگرمیوں اور کھیلوں سے محروم ہونے لگے ہیں۔سروے کے مطابق 22 فیصد سے زیادہ بچے جو خبروں کے متعلق جانتے ہیں اور حالات سے باخبر رہتے ہیں وہ مسلسل منفی خبروں کے سبب نفسیاتی امراض کا شکار ہورہے ہیں اور ذہنی تناؤ میں مبتلاء ہیں۔ اس کے علاوہ 60فیصد بچے ایسے ہیں جوکہ تعلیمی سرگرمیوں سے دور رہنے کے علاوہ گھر میں رہتے ہوئے خوش ہیں۔ 45.2فیصد بچوں کو بوریت کا احساس ہونے لگا ہے اور 41.9 فیصد بچے خوفزدہ ہونے لگے ہیں۔ 34.9 فیصد بچے جوش وخروش کے ساتھ زندگی گذاررہے ہیں لیکن 33.8 فیصد بچے مخمصہ کا شکار ہیں ۔بچوں کی نفسیات پر ہونے والے اثرات کے سلسلہ میں شائع اس رپورٹ میں والدین کو بچوں کے ساتھ وقت گذارنے کی تاکید کی گئی ہے۔ جاری ہے۔۔