کورونا وائرس بہانہ ، مسلمانوں کے غیر منظم شعبوں کو خطرہ

   

نفرت انگیز ویڈیوز سے مسلم تاجر برادری نشانہ ، کالونیوں میں مسلم ٹھیلہ بنڈیوں پر روک
حیدرآباد۔10اپریل(سیاست نیوز) ملک میں کورونا وائرس کے سبب جوحالات پیدا ہوئے ہیں ان میں اب ایسا لگنے لگا ہے کہ غیر منظم شعبوں میں مسلمانوں کی خدمات کو کورونا کے نام پر محدود کرنے کی منظم حکمت عملی تیار کی جانے لگی ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کی وباء کو روکنے کے سلسلہ میں جس طرح کے نفرت انگیز ویڈیوز گشت کر رہے ہیں اس سے عوامی رائے ہموار ہونے لگی ہے اور لوگ ان باتوں پر یقین کرنے لگے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ملک میں کورونا وائرس کو پھیلانے کیلئے مسلمان ذمہ دار ہیں۔ شمالی ہند کی ریاستوں میں موجود کئی کالونیوں کے مکینوں نے مسلم ٹھیلہ بنڈی رانوں کو اپنے علاقوں میں آنے سے روکنے پر اتفاق کرلیا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ تجارت نہ کرنے کے سلسلہ میں رائے عامہ کو ہموار کیا جا رہا ہے جو کہ منفی سوچ کے فروغ کا باعث ہے۔ اب تک جو رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں ان کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئی کہ ہندستان میں 50 فیصد مسلمان اپنے ذاتی چھوٹے کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں جن میں ٹھیلہ بنڈی رانوں کی اکثریت ہے جبکہ 33 فیصد غیر مسلم ہیں جو کہ ٹھیلہ بنڈی راں ہیں اسی طرح مسلمانوں میں صرف 27 فیصد شہری آبادی ایسی ہے جو کہ ملازمت کرتی ہے جبکہ ہندو طبقہ میں 43 فیصد لوگ ملازمت پیشہ ہیں ‘ 45فیصد عیسائی ملازمت پیشہ ہیں اور مسلمانوں میں 30فیصد مرد ایسے ہیں جو کہ سکنڈری ایجوکیشن سے آگے تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح عیسائی طبقہ میںدیکھا جائے تو 58 فیصد مرد سکنڈری ایجوکیشن سے آگے تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیںجبکہ 56 فیصد ہندو مرد سکنڈری ایجوکیشن سے آگے تعلیم یافتہ ہیں۔سال 2009-10 کے ان اعداد وشمار میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد ان چھوٹے کاروبار اور تجارت پر انحصار کئے ہوئے ہیں اور ان کی معیشت کا انحصار اسی پر ہے۔ سچر کمیٹی رپورٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ ملک میں مسلمانوں کی بڑی آبادی چھوٹے اور غیر منظم شعبہ پر انحصار کی ہوئی ہے اور اب اس غیر منظم شعبہ کو بھی کورونا وائرس کے نام پر نشانہ بنایا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ مسلمانوں کی وجہ سے ملک میں کورونا وائرس پھیل رہا ہے اسی لئے ان سے لین دین اور بالواسطہ ان کے سماجی بائیکاٹ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور اس بات سے ہر کوئی واقف ہے کہ ملک میں موجود سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ کیا ہے اور انہیں کس حد تک ملازمتوں کے حصول کے مواقع دستیاب ہیں۔ کورونا وائرس کے پھیلنے کے ساتھ ہی مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانے کا عمل شروع کردیا گیا اور اب جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے منافرت کے ماحول کو ختم کرنا ناگزیر ہے اور ان حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر منظم شعبہ پر کئے جانے والے ان حملوں کو روکنے کے اقدامات کرے کیونکہ اب یہ وبائی مرض مذہبی نوعیت کی نفرت کا سبب بننے لگا ہے ۔ملک میں تجارت کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوںکو نشانہ بنانے کی جو کوشش کی جارہی ہے اس کے نتائج سنگین برآمد ہوں گے اور ملک کے حالات کو پرامن برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا ۔ اس لیے مذہبی منافرت کو روکنے سخت اقدامات ناگزیر ہے ۔