روزانہ کی کمائی والے افراد کو بے پناہ مشکلات ، کیاب ڈرائیورس بے یار و مددگار
حیدرآباد : دنیا بھر کو پریشان کرنے والے کورونا وائرس نے جہاں متاثرین کا جینا مشکل کردیا تو وہیں دوسری طرف اس کے خوف سے پیدا شدہ حالات میں انسانی زندگی مجبور ہوگئی ہے ۔ مزدور پیشہ افراد کے علاوہ روزانہ کی کمائی پر انحصار کرنے والے کروڑہا افراد بے پناہ مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں ۔ ان میں اس ایک شعبہ ڈرائیورس کا پایا جاتا ہے ۔ ایک طرف کام کی کمی تو دوسری طرف دگنی محنت کرنے کے باوجود بھی زندگی کا گذر بسر مشکل ہوگیا ہے ۔ پہلے ایک شفٹ میں جو آمدنی کیاب ڈرائیورس کو حاصل ہوتی تھی اب تین شفٹ یا 20 گھنٹے محنت کرنے کے باوجود خاطر خواہ آمدنی نہیں ملتی ۔ اور ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ٹیکس کی ادائیگی اور کمپنیوں کا کمیشن 20 گھنٹے کی محنت کے باوجود 600 تا 700 روپئے کی آمدنی بھی مشکل ہوگئی ہے ۔ اور ان حالات کو دیکھتے ہوئے زندگی کے گذر بسر کے لیے اکثر ڈرائیورس اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری پر مجبور ہوگئے اور تعمیراتی سرگرمیوں کے مقامات پہونچ کر مزدوری کررہے ہیں ۔ اور کئی ڈرائیور خود روزگار کے موقع تلاش کرتے ہوئے ٹھیلہ بنڈی ، آٹوز اور مختلف ذریعہ سے فٹ پاتھ پر ترکاری ، میوہ اور دیگر گھریلو اشیاء روزانہ کے استعمال میں آنے والی اشیاء فروخت کررہے ہیں ۔ تاہم انہیں اس حال میں بھی مشکلات میں تجربہ کا فقدان ان کے سرمایہ کو نقصان پہونچانے کا سبب بن رہا ہے ۔ ایسے حالات میں اس شعبہ کو جو انسانی زندگی کے حمل و نقل میں اہم رول ادا کرتا ہے کوئی مددگار نہیں ہے اور نہ ہی کیاب مالکین کی جانب سے انہیں کوئی رعایت اور مروت فراہم کی جارہی ہے ۔ روزانہ کام کے باوجود بھی انہیں کوئی بھتہ نہیں دیا جاتا اور نہ ہی کام میں رعایت ۔ سالوں سے جڑے ہوئے اپنے ڈرائیورس کے تعلق کیاب مالکین کا سنگ دل رویہ اس شعبہ پر آفت کے بادلوں سے کم نہیں اور نہ ہی حکومت کی جانب سے انہیں کوئی راحت فراہم کی جاتی ہے ۔ ٹیکسی مارکٹ میں اپنا اثر جمع چکے اولا ۔ اوبر ادارے صرف اپنے کمیشن سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ڈرائیونگ فلیڈ میں 19 سالہ بیاچ کا تجربہ رکھنے والے محمد ستار ساکن رام دیو گوڑہ سے بات کرنے پر بتایا کہ ڈرائیورس کی زندگی اجیران بن گئی ہے ۔ ہر حال میں ہر وقت عوامی خدمت کیلئے تیار رہنے والے ڈرائیورس کی جانب کوئی توجہ نہیں دیتا ۔ ٹراویلس مالکین تو اپنا پیاکیج حاصل کرلیتے ہیں لیکن ڈرائیورس کو کچھ نہیں ملتا ۔ محنت کے باوجود خاطر خواہ آمدنی نہیں ہے ۔ اور نہ ہی بکنگ دی جارہی ہے ۔ ذاتی گاڑی والے ڈرائیورس کو مزید مشکلات کا شکار ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ چھوٹی گاڑی فور وہیلرس کا سالانہ فٹنس اور 6 وہیلرس کو تین ماہ میں ٹیکس ادا کرنا بڑھتا ہے اور اب ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ڈائیورس پر ایک کے بعد ایک مصیبت آتی جارہی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسکولس ، مکان مالکین اور دیگر کے لیے جاری کردہ رہنمیایانہ خطوط کی طرز پر ٹراویلس مالکین اور اولا اوبر کو بھی پابند کرتے ہوئے ڈرائیورس کے ساتھ رعایت کا معاملہ کریں اور ہزارہا خاندانوں کو مشکلات سے راحت فراہم کریں ۔۔