متعدد افراد ذہنی تناؤ اور نفسیاتی عوارض کے ساتھ ڈاکٹرس سے رجوع ، متعدد دواخانوں میں کونسلنگ
حیدرآباد۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں میں بے خوابی کی شکایات ذہنی تنائو کا سبب بننے لگی ہیں ۔ڈاکٹرس کا کہناہے کہ بے خوابی کے سبب شہریوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور بے خوابی کی بنیادی وجہ کورونا وائرس تصور کی جارہی ہے کیونکہ جو مریض ذہنی تناؤ کے علاوہ دیگر نفسیاتی امراض کے ساتھ ڈاکٹرس سے رجوع ہورہے ہیں ان میں بڑی تعداد کورونا وائرس کا شکار ہوچکی تھی اور کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد انہیں بے خوابی کی شکایات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا اور اب بے خوابی کے بعد وہ نفسیاتی امراض کا شکار ہونے لگے ہیں ۔ڈاکٹر پی رنگا نادھم نے بتایا کہ بے خوابی کے بعد نفسیاتی امراض کا شکار ہونے والوں میں چڑچڑاہٹ اور توجہ کے ساتھ معمول کے کام انجام دینے میں مشکلات پیش آرہی ہیں اور وہ کوئی کام پوری توجہ کے ساتھ انجام نہیں دے پا رہے ہیں ۔انہو ں نے بتایا کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں میں مابعد کورونا وائرس متعدد بیماریاں دیکھی جا رہی ہیں لیکن اب بے خوابی کی شکایت عام طور پر دیکھی جانے لگی ہے اور مسلسل بے خوابی اور نیند میں سکون نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی تناؤ کے علاوہ الجھن کا شکار ہونے لگے ہیں۔ڈاکٹر پی رنگانادھم نیورولوجسٹ نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میںبھی کورونا وائرس سے ٹھیک ہونے والے مریضوں میں یہ شکایات عام ہونے لگی ہیں۔ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے مریضوں کی ذہنی کیفیت میں رونما ہونے والی اس تبدیلی کو مثبت انداز فکر سے بحال کیا جاسکتا ہے اور اس کے لئے ان کی کونسلنگ کے ساتھ ساتھ انہیں مغموم رہنے سے بچانے اور انہیں مصروف رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ماہر اطباء کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران جن لوگوں نے اپنے رشتہ داروں اور قریبی دوست و احباب کھویا ہے انہیں بھی اس طرح کی شکایات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جو کہ ان کے نظریہ کو تبدیل کرنے کے علاوہ ان میں عدم توجہی کے رجحان میں اضافہ کا سبب بن رہاہے۔مثبت فکر کو فروغ دینے اور کورونا وائرس سے ٹھیک ہونے کے باوجود لوگوں سے علحدہ رہنے والوں کو معمول کی زندگی گذارنے کے ساتھ ان کی فکر کو تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں مابعد کورونا وائرس ذہنی امراض کا شکار ہونے والوں کے لئے کئی خانگی دواخانوں میں کونسلنگ کی جارہی ہے۔