کورونا وائرس وبا سے تعلیمی شعبہ شدید ترین متاثر

   

بیشتر خانگی اسکولس میں دس سے بھی کم داخلے ، تین ہزار اسکولس کرایہ ادا کرنے سے قاصر
حیدرآباد۔ کورونا وائرس کی وباء نے تمام شعبوں پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں لیکن شعبۂ تعلیم کی حالت انتہائی ابتر ہوتی جارہی ہے اور شہریوں کی جانب سے بچوں کو اسکول میں داخلہ دلوانے میں بھی دلچسپی نہیں دکھائی جا رہی ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ شہریوں کی معاشی حالت ابتر ہونے کے سبب وہ تعلیم کے حصول میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی خانگی اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں کافی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور سرکاری اسکولوں کے داخلوں میں بھی کوئی بہتری نہیں دیکھی جا رہی ہے جو کہ اس بات کی بین ثبوت ہے کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران جن بچوں کو اسکول میں داخلہ کروایا جانا چاہئے تھا ان بچوں کو اسکول میں داخلہ نہیں کروایا گیا ہے۔ خانگی اسکولوں کے ذمہ دارو ںکا کہناہے کہ ان کے اسکولوں میں داخلوں میں کافی گراوٹ دیکھی گئی ہے اور انتظامیہ کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ آیا بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کروایا جارہا ہے تو ایسا بھی نہیں ہے ۔ کورونا وائرس کی وباء کے ساتھ ہی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جار ہاہے کہ خانگی اسکولوں میں داخلے نہ ہونے کی مختلف وجوہات ہیں جن میں اولیائے طلبہ و سرپرستوں کے معاشی حالات کے ساتھ ساتھ باضابطہ اسکولوں کا عدم آغاز شامل ہے علاوہ ازیں بیشتر خانگی اسکولوں میں جہاں پرائمری بلکہ پری پرائمری کلاسس میں سالانہ کم از کم100طلبہ کا داخلہ ہوا کرتا تھا ان اسکولو ںمیں 10داخلے بھی نہیں ہوئے ہیں جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں۔ تلنگانہ ریکگنائزڈ اسکول اسوسیشن کے ذمہ داروں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وباء اور لاک ڈاؤن کے سبب دیگر ریاستوں سے شہر میں ملازمت کے لئے رہنے والے شہری کورونا وائرس کے ساتھ ہی اپنے آبائی مقامات کو واپس جاچکے ہیں اور وہ اپنے بچوں کا داخلہ اپنے آبائی مقام پر کروانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ٹی آر ایس ایم اے کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں زائد از 3000خانگی اسکول ایسے ہیں جو اپنی عمارتو ںکا کرایہ تک ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیںاور وہ ریاستی حکومت سے مدد کے طلبگار ہیں ۔اس سلسلہ میں خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کا ایک وفد جلد ہی ریاستی وزیر تعلیم مسز سبیتا اندرا ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے اس سلسلہ میں نمائندگی کرنے پر غور کر رہاہے۔