کورونا وائرس کو روکنے کیلئے ماسک کا استعمال ضروری: ماہرین

   


دیگر وبائی امراض اور آلودگی سے بھی محفوظ رہنے کا موثر ذریعہ
حیدرآباد۔ ماسک کے استعمال کے ذریعہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے اور ماسک کے استعمال کے ذریعہ ہی اپنی اور دوسروں کی زندگی بچائی جاسکتی ہے۔ سال 2020کے دوران ماسک کے استعمال کو کافی فروغ دیا گیا اور دنیا بھر میں ماسک کے استعمال کا لزوم بھی عائد کیا گیا لیکن شہر حیدرآباد میں ماسک استعمال میں بتدریج گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور ماسک کا استعمال کرنے والوں کو شبہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے ۔ ماہرین کا کہناہے کہ ماسک کے استعمال سے نہ صرف خود کی جان بچائی جاسکتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی کئی بیماریوں کا شکار ہونے سے بچایاجاسکتا ہے اسی لئے ماسک کے استعمال کو ترک کرنے کے بجائے اس کے استعمال کو عادات میں شامل کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ ماہراطباء کا کہناہے کہ ماسک کے استعمال سے صرف کورونا وائرس کی روک تھام نہیں ہوگی بلکہ دیگر وبائی امراض کے علاوہ فضائی آلودگی سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے اسی لئے شہریوں کو ماسک کے استعمال کے سلسلہ میں کوتاہی کرنے کے بجائے اس کے استعمال کو لازمی کرنے پر توجہ دینی چاہئے ۔ برطانیہ کے نئے وائرس کے شہر میں پائے جانے کے بعد شہریوں کی جانب سے ماسک کے استعمال میں اضافہ کے امکان ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اگر ماسک کے استعمال میں کوتاہی کی جاتی ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے عائد کئے جانے والے ماسک کے لزوم کا ابھی خاتمہ نہیں ہوا ہے لیکن ماسک کے لزوم پر فی الحال بینکوں‘ اے ٹی ایم کے علاوہ ٹیلی کمیونیکیشن دفاتر میں ہی عمل کیا جا رہا ہے جبکہ شہر کے بعض شاپنگ مالس میں بھی ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا جارہا ہے لیکن عام طور پر شہریو ںکی جانب سے ماسک کا عدم استعمال نہ صرف ان کیلئے بلکہ دوسروں کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی محکمہ صحت کی جانب سے اس سلسلہ میں جلد ہی رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کے علاوہ ریاست بھر میں ماسک کے لزوم کو سخت کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ شہریوں کو ماسک کے استعمال کا عادی بنانے کے اقدامات کی صورت میں نہ صرف کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے گا بلکہ دیگر وبائی امراض میں بھی سال گذشتہ ریکارڈ کی گئی کمی کے مطابق دیگر وبائی امراض کو بھی پھیلنے سے روکنے میں یہ فیصلہ انتہائی معاون ثابت ہوگا اور اس فیصلہ سے ملیریاء‘ ڈینگو اور دیگر بیماریوں کو بھی روکا جاسکے گا۔