ادارہ سیاست ، علماء و مشائخین کے علاوہ زعمائے ملت ، سیاسی قائدین کی اپیل
عوام گھروں سے باہر نہ نکلیں ، بیماری کو گھروں میں نہ لائیں
حیدرآباد۔ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے مذہبی رہنماؤں کو اپنے معتقدین کے علاوہ عوام کو تلقین کرنی چاہئے اور اس بات کی ممکنہ کوشش کرنی چاہئے کہ وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے جو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں ان پر عمل آوری کے ساتھ ساتھ پر ہجوم مقامات پر جمع ہونے سے روکا جائے ۔ ادارۂ سیاست علماء و مشائخین کے علاوہ زعمائے ملت ‘ سیاسی قائدین اور سرکردہ اصحاب سے اپیل کرتا ہے کہ وہ شہرحیدرآباد‘ ریاست تلنگانہ اور ہندستان کو اس مہلک وباء سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنی کوششوں کو وسعت دیں اور اپنے حامیوں کے علاوہ اپنے حلقہ اثر میں تلقین کریں کہ وہ کورونا وائرس کی وباء کو روکنے کے اقدامات کو بااثر بنائیں۔ ادارۂ سیاست کے ذمہ داروں اور عملہ شہریان حیدرآباد بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کرنا ہے کہ وہ اپنے والدین اور اپنے گھروں میں موجود معصوم بچوں کی صحت اور ان کی زندگی کی اہمیت کو سمجھیں اور غیر ضروری گھروں سے نکلنے سے احتیاط کریں کیونکہ گھروں میں رہنے والے اس وبائی مرض سے محفوظ ہیں لیکن جو لوگ گھروں سے نکل رہے ہیںوہ باہر سے وائرس کو اپنے ساتھ لا رہے ہیں اور گھروں میں موجود لوگوں کو متاثر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ شہر حیدرآباد اورتلنگانہ میں رات کے کرفیوکے باوجود جو صورتحال دیکھی جار ہی ہے وہ انتہائی افسوسنا ک ہے اور نوجوان اور بازاروں میں گھومنے والوں کی جانب سے کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے کسی قسم کے کوئی احتیاطی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب وائرس سے تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں یومیہ متاثرین کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے اور متاثرین کو دواخانوں میں بستر نہیں مل رہے ہیں اور اگر بستر مل بھی رہے ہیں تو ریاست میں اتنی بڑی تعداد میں ڈاکٹرس اور طبی عملہ موجود نہیں ہے کہ وہ تمام مریضوں کے علاج و معالجہ کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاسکے۔ ملک بھر میں آکسیجن کی قلت کے سبب پیدا ہونے والی صورتحال سے آگہی کے باوجود اگر ہمارے نوجوانوں کے مزاج میں تبدیلی نہیں آتی ہے اور نوجوانوں کی جانب سے رفتار بے ڈھنگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کورونا وائرس کے اصولوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں شہر حیدرآباد کے حالات بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہوجائیں گے۔ادارۂ سیاست اس نازک صورتحال میں شہریوں بالخصوص زعمائے ملت‘ علماء اکرام کے علاوہ ہر بااثر شہری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے حلقہ اثر کو غیر ضروری باہر نکلنے سے روکیں اور اگر کوئی شدید ضرورت کے تحت گھروں سے نکلتے بھی ہیں تو انہیں مکمل احتیاط کے ساتھ نکلنا چاہئے ۔ آن لائن وعظ و نصیحت اور آئمہ حضرات ہر نماز کیفوری بعد اگر مصلیان اکرام کو موجودہ صورتحال سے محفوظ رہنے اوراپنے افراد خاندان کا خیال کرتے ہوئے احتیاط کرنے کی تاکید کریں تو ممکن ہے کہ نوجوانو ں میںکسی قدر تبدیلی رونما ہوسکے ۔ مساجد میں نماز کے اوقات میں اگر وائرس سے محفوظ رہنے کے اقدامات کی تشہیر کے ساتھ وائرس کے گھر تک پہنچنے کی وجوہات کے متعلق احساس پیدا کیاجانا ناگزیر ہے کیونکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں آکسیجن کی قلت کے سبب پیدا ہونے والے مسائل اور اموات کا سلسلہ خدا بادل نخواستہ شہر حیدرآباد میں شروع ہوتا ہے تو ایسی صورت میں شہرحیدرآباد کو تباہی سے محفوظ رکھنا مشکل ہوجائے گا کیونکہ ملک کی دوسری ریاستو ںمیں پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے میں حیدرآباد کے دواخانے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن اگر حیدرآباد میں دہلی ‘ گجرات ‘ مہاراشٹرا یاکر ناٹک کی طرح حالات پیدا ہوجاتے ہیںتو ایسی صورت میں سنگین صورتحال پیدا ہوجائے گی اور اس سے نمٹنا انتہائی مشکل ہوجائے گا ۔ اسی لئے ہر شخص کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے جہاں تک ممکن ہوسکے گھروں سے نکلنے سے اجتناب کرنا چاہئے ۔