واشنگٹن ۔ 27 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) آج چین کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کوروناوائرس سے پریشان ہے جہاں اس پر نت نئے تجربے کئے جارہے ہیں تاہم سائنسداں اب بھی یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ آخر کووناوائرس کتنا سنگین ہے۔ جس طرح تیزی سے ہلاکتیں ہورہی ہیں اس نے سائنسدانوں کیلئے ایک چیلنج پیدا کردیا ہے اور اسے اب ایک پراسرار وائرس سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ ویسے کورونا لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تاج کے ہوتے ہیں کیونکہ کوروناوائرس کی شکل اور جسامت بالکل کسی بادشاہ کے تاج سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر بروس ایلورڈ نے کہا کہ ابتداء میں اس کے بارے میں آپ کو صحیح اطلاعات نہیں ملی اور نہ اس کے صحیح نتائج سامنے آئے تاہم جیسے جیسے لوگ اس سے متاثر ہوئے اس کی حقیقت (جو اب بھی پُراسرار بنی ہوئی ہے) ظاہر ہونے لگی۔ ڈاکٹر بروس عالمی ادارہ صحت کے سفیر ہیں جو سائنسدانوں کی ایک ٹیم کے ساتھ حال ہی میں چین سے واپس آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کو کووڈ۔19 کا نام دیا گیا ہے جس نے چین کے شہر ووہان کو اتنی تیزی سے متاثر کیا کہ لوگ سمجھ ہی نہیں سکے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ کورونا وائرس سے نہ صرف چین کے مختلف شہر بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی متاثر ہورہے ہیں۔
