کے سی آر کی جانب سے 100 کروڑ روپئے منظور،عوام کو سنسنی سے گریز اور چوکسی کا مشورہ، متاثرہ سافٹ ویر انجینئر کی حالت بہتر
بنگلورو ؍ حیدرآباد 3 مارچ (پی ٹی آئی) کرناٹک اور تلنگانہ کی حکومتوں نے تیزی سے پھیلنے والے موذی وباء کورونا وائرس سے نمٹنے کی تیاری کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا آج تفصیلی جائزہ لیا جب بنگلورو سے سکندرآباد سفر کرنے والے ایک 24 سالہ سافٹ ویر انجینئر کا طبی معائنہ مثبت برآمد ہوا جس کے ساتھ ہی جنوبی ہند میں کورونا وائرس کے چوتھے کیس کی توثیق بھی ہوگئی ہے۔ قبل ازیں کیرالا میں تین افراد کے معائنے مثبت پائے گئے تھے جو علاج کے بعد صحتیاب ہوگئے اور دواخانوں سے ڈسچارج کردیئے گئے تھے۔ کرناٹک کے وزیر صحت بی سری راملو نے اپنے محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں کا ایک اجلاس منگل کو بنگلور میں طلب کیا جس میں صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے بعد ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔ سری راملو نے عوام سے اپیل کی کہ صورتحال قابو میں ہے۔ مکمل چوکسی اختیار کی جارہی ہے اور سنسنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس دوران تلنگانہ کے وزیر صحت ای راجندر نے کہاکہ گھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ نوجوان سافٹ ویر انجینئر کی حالت مستحکم ہے اور اس نوجوان سے رابطہ میں آنے والے افراد کا پتہ چلانے کا عمل جاری ہے۔ راجندر نے کہاکہ ’اس شخص کی حالت میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ یہ نوجوان جو بنگلور میں سافٹ ویر انجینئر کی حیثیت سے کام کرتا ہے دبئی سے واپسی کے بعد کھانسی بخار سے متاثر ہونے کے سبب خانگی دواخانہ میں زیرعلاج تھا جہاں حالت میں بہتری نہ ہونے گاندھی ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا تھا جہاں اس کے طبی معائنے مثبت برآمد ہوئے۔ اس طرح تلنگانہ میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی توثیق ہوگئی۔ بنگلور سے واپسی کے دوران یہ شخص ایک بس میں 88 افراد کے رابطہ میں آیا تھا جن کے منجملہ 45 افراد کو گاندھی ہاسپٹل لایا گیا۔ طبی معائنے کئے گئے اور رپورٹ کا انتظار ہے۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس آج یہاں منعقد ہوا جس میں وزیر صحت راجندر کے علاوہ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ، وزیر پنچایت راج ای دیاکر اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ 100 کروڑ روپئے منظور کرچکے ہیں جنھیں اس وائرس سے نمٹنے کے اقدامات کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ متاثرہ مریض صحتیاب ہورہا ہے۔ اس کے ارکان خاندان بھی ٹھیک ہیں۔ کورونا وائرس سے عوام کو اُلجھن پریشانی و سنسنی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعدازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ ریاستی حکومت پانچ سرکاری دواخانوں میں علیحدہ وارڈس قائم کرچکی ہے۔ مجموعی طور پر 3000 بستروں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں 2000 خانگی میڈیکل کالجوں میں ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن اور مرکزی عہدیداروں سے بات کرچکے ہیں۔ ماسک وغیرہ مہیا کرنے کی درخواست کی تھی جس سے اتفاق کرلیا گیا ہے۔ ایک سوال پر وزیر صحت نے جواب دیا کہ وائرس سے متاثرہ سافٹ ویر انجینئر کے ارکان خاندان بالکل ٹھیک ہیں۔ تلنگانہ میں درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور بڑھتی گرمی میں کورونا وائرس ایک لمحہ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔