خوردنی تیل اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ نے عام آدمی کی کمر توڑ دی
حیدرآباد۔16ستمبر(سیاست نیوز) وباء کی آڑ میں مہنگائی میں ہورہے اضافہ پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتو ںمیں ہورہے اضافہ پر ریاستی حکومت کے محکمہ اوزان و پیمائش کی جانب سے کوئی قابو پانے کے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو وباء کے اس دور میںجہاں بے روزگاری اور آمدنی پر کاری ضرب کا سامنا ہے وہیں مہنگائی کی مار برداشت کرنی پڑرہی ہے۔ شہر حیدرآباد میں گذشتہ دو ماہ کے دوران خوردنی تیل کی قیمت میں 30 روپئے فی کیلو کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن اس کا احساس بھی ہونے نہیں دیا گیا۔ لاک ڈاؤن سے قبل سے خوردنی تیل کے 15کیلو کے ڈبے کی قیمت1400 روپئے کے قریب ہوا کرتی تھی لیکن لاک ڈاؤن کے دوران اس میں 50تا75 روپئے کا اضافہ ریکار ڈ کیا گیا لیکن اب جبکہ لاک ڈاؤن میں رعایت حاصل ہونے لگی ہے تو گذشتہ دو ماہ کے دوران 325 روپئے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجوہات کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر کوئی بھی ٹھوک تاجر یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ریاست قیمتوں میں اضافہ کی وجوہات کیا ہیں لیکن قیمتوں میں اضافہ کے سلسلہ میں ہر کوئی واقف ہے اور شہریوں پر فی کیلو 30 روپئے کا بوجھ اضافہ ہوا ہے لیکن انہیں اس کا احساس ہونے نہیں دیا جا رہاہے ۔ ملک بھر میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد سے معاشی حالات انتہائی ابتر ہوچکے ہیں اور شہریوں بالخصوص تاجرین اور ملازمین کی معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے ایسے میں اگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے دریغ اضافہ ہوتا ہے تو اس کے راست اثرات عوام پر مرتب ہوتے ہیں۔ دونوں شہر وں حیدرآباد و سکندرآباد کے تاجرین کا کہناہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران خوردنی تیل کی قیمت میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور جب ایک مرتبہ قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے خواہ وہ کسی بھی وجہ سے ہو اس میں کمی لانے کے لئے کوئی بھی کمپنی تیار نہیں ہوتی ۔ تاجرین کا کہناہے کہ درآمدات اور برآمدات میں ریکارڈ کی گئی گراوٹ کے سبب ممکن ہے کہ خوردنی تیل کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے لیکن وہ اس بات کو وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ قیمتو ںمیں اضافہ کی وجوہات کیا ہیں اور اضافہ پر قابو کس طرح سے پایا جاسکتا ہے۔ خوردنی تیل جو کہ روزمرہ کی ضرورت ہے اور اس کی قیمت میں اضافہ کے سلسلہ میں بھی اگر سرکاری محکمہ جات کی جانب سے خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو ایسے میں اشیائے ضروریہ کی تیاری اور فروخت کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے عوام کو لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے بازاروں میں فروخت کئے جانے والے خوردنی تیل کی قیمت میں اضافہ سے نہ صرف عوام بلکہ تاجرین میں بھی تشویش پائی جاتی ہے