مریضوں کو شریک کرنے سے گریز، شرحوں پر نظردانی کے لیے حکومت سے نمائندگی کا فیصلہ
حیدرآباد۔ 18 جون (سیاست نیوز) حکومت نے خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس اور لیابس میں کورونا ٹسٹ اور علاج کے سلسلہ میں شرحوں کا اعلان کیا لیکن کارپوریٹ ہاسپٹلس موجودہ شرحوں پر مریضوں کو شریک کرنے میں تامل کررہے ہیں۔ خانگی ہاسپٹلس کے نمائندوں نے وزیر صحت اور محکمہ صحت کے عہدیداروں سے ملاقات کا وقت مانگا ہے تاکہ شرحوں پر نظرثانی کی درخواست کی جاسکے۔ ہاسپٹلس کا کہنا ہے کہ کوالیٹی سرویس کے ساتھ وہ موجودہ شرحوں پر علاج نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ اس میں ہاسپٹلس کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کووڈ۔19 کے سبب ہاسپٹلس کو پہلے ہی نقصان کا سامنا ہے۔ کیوں کہ سماجی فاصلہ اور دیگر شرائط کے نتیجہ میں بستروں کی تعداد گھٹ چکی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹاف اور ڈاکٹرس کے لیے پی پی ای کٹس اور دیگر حفاظتی آلات کی سربراہی کے سبب اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ کسی کورونا مریض کے علاج میں شامل عملے کو کورنٹائن کرنے کے اخراجات بھی ہاسپٹلس کو برداشت کرنے پڑرہے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر اسٹاف کورنٹائن میں ہیں لیکن انہیں تنخواہیں بدستور جاری کی جارہی ہیں۔ کارپوریٹ ہاسپٹلس نے کہا کہ اگر حکومت موجودہ شرحوں پر علاج کے لیے مجبور کرے گی تو وہ مریضوں کو بستروں کی فراہمی سے قاصر رہیں گے۔ میڈیکل شعبہ کے ایک ماہر نے بتایا کہ حکومت کو شرحوں کی تعان سے زیادہ ہیلتھ انشورنس پر توجہ مبذول کرنی چاہئے۔ تلنگانہ سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹلس اسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر بھاسکر رائو نے کہا کہ میڈیکل انشورنس کو لازمی قرار دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں کورونا سے بچائو کے لیے شعور بیداری کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ماسک اور سماجی فاصلہ یقینی بنایا جائے۔ صرف لازمی خدمات کے لیے ہی گھروں سے باہر نکلنا چاہئے۔ حکومت کو عوام میں شعور بیداری کی مہم چلانی چاہئے جس سے کورونا کے پھیلائو کو روکنے میں مدد ملے گی۔