مختلف مقامات کے علاوہ سگنلس پر بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ
حیدرآباد۔27اگسٹ(سیاست نیوز) دونوں شہروں میں کورونا وائرس نے مزدور طبقہ کو پیشہ ور گداگربننے پر مجبور کردیا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے گداگروں کے خلاف چلائی گئی مہم اب دوبارہ ناکام ہوتی نظر آرہی ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں مذہبی مقامات کے علاوہ سگنلس پر بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق شہر میں 3000 سے زائدخاتون گداگر موجود ہیں جن کا تعلق شہر سے نہیں ہے بلکہ وہ پڑوسی ریاستوں اور اضلاع سے آئے ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مہاراشٹرا‘ کرناٹک‘ آندھرا پردیش کے علاوہ تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے شہر پہنچنے والے ان گداگروں کے متعلق جی ایچ ایم سی کا موقف یہ ہے کہ یہ موسمی گداگر ہیں اگر انہیں تحویل میں لیا جانے لگے تو بڑی تعداد ہوجائے گی اسی لئے گداگروں کے خلاف جاری مہم کو موقوف کیا گیا ہے۔ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے گداگروں کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد میں موسمی گداگروں کی دھوکہ دہی میں شہر سے تعلق رکھنے والے گداگر ملوث نہیں ہیں ۔ حالیہ عرصہ میں سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اس بات کے کئی خلاصہ سامنے آئے ہیں جن میں پکڑے جانے والے گداگروں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے سبب حالات کا شکار ہوئے ہیں۔اب گداگروں پر خصوصی نظر رکھی جانے لگی ہے اور اس سلسلہ میں محکمہ پولیس بھی حرکت میں ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی ناگہانی واقعہ نہ پیش آئے۔ بتایاجاتاہے کہ شہر میں گداگری کرنے والی خواتین کے علاوہ مرد گداگروں پر بھی گہری نظر رکھی گئی ہے جو شہر کے مختلف کھلے مقامات پر رات کے اوقات میں ایک جگہ جمع ہوتے ہیںاور آرام کرتے ہیں۔ کورونا وائرس کے سبب چھوٹی ملازمتوں سے محروم ہونے والوں نے بھی گداگری شروع کردی ہے جو کہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔M