بی جے پی آفس مقفل، سڑکوں کی چہل پہل میں کمی، سیاستداں بڑے پیمانے پر متاثر
حیدرآباد ۔ 22 جنوری (سیاست نیوز) ریاست میں کورونا کے کیسیس میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کورونا کے ہاٹ اسپاٹ میں تبدیل ہوگیا۔ حکومت کی جانب سے نائیٹ کرفیو اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کو مسترد کردیا ہے جس کے بعد عوام کی جانب سے بڑے پیمانے پر خود حفاظتی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ لوگ غیرضروری سڑکوں پر نکلنے سے احتراز کررہے ہیں جس کی وجہ سے گذشتہ دو دن سے شہر کی سڑکوں میں عوام کی چہل پہل جہاں کم نظر آرہی ہے، وہیں بڑے پیمانے پر گاڑیاں سڑکوں سے دور ہوگئی ہیں۔ بڑے پیمانے پر سیاسی قائدین کورونا سے متاثر ہورہے ہیں، جس کے بعد بی جے پی کے ہیڈ آفس نامپلی کو مقفل کردیا گیا ہے اور پارٹی کے قائدین اہم مسائل پر ورچول میٹنگس کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ بی جے پی کے فوجی صدر جے پی نڈا حیدرآباد میں آر ایس ایس کے اجلاس اور بی جے پی قائدین سے ملاقات کے بعد کورونا سے متاثر ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ بی جے پی کے ایک جنرل سکریٹری اور بی جے پی اسٹاف کے 15 ارکان کورونا سے متاثر ہوئے۔ حال ہی میں مرکزی وزیرسیاحت جی کشن ریڈی بھی کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد بی جے پی کے آفس کو مقفل کردیا گیا ۔ صرف اہم قائدین اور اسٹاف کو ہی بی جے پی آفس میں دیکھا جارہا ہے۔ ٹی آر ایس کی جانب سے تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر ریتو اتسو کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں شرکت کرنے والے کئی وزراء ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل کورونا سے متاثر ہوگئے ہیں جس کے بعد ہمیشہ عوام کی آمدورفت سے بھرا رہنے والا ٹی آر ایس کا ہیڈ آفس تلنگانہ بھی سنٹا ہوگیا ہے۔ روزانہ انشورنس کی رقم حاصل کرنے کیلئے 50 تا 60 لوگ تلنگانہ بھون آفس پہنچے تھے آپ کا آنا جانا بھی ختم ہوگیا ہے۔ ٹی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر ہفتہ میں دو تین دن پارٹی آفس کو پہنچے تھے وہ بھی نہیں پہنچ رہے ہیں۔ تلنگانہ بھون میں بیشتر پریس کانفرنس کو بند کردیا گیا ۔ چند دن ٹی آر ایس لیجسلیچر پارٹی آفس میں پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا وہاں پر بھی پارٹی قائدین متاثر ہوئے۔ کانگریس ہیڈکوارٹر گاندھی بھون میں بھی سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہیکہ سیاسی قائدین، انکے سیکوریٹی گارڈس اور ارکان خاندان کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ کوئی اس کی تصدیق کررہے ہیں کوئی نہیں کررہے ہیں۔ کورنٹائن میں رہ کر اپنا اور اپنے ارکان خاندان کا علاج کررہے ہیں۔ آر ٹی سی بسوں میں سفر کرنے والے مسافرین کی بھی نصف تعداد گھٹ گئی ہے۔ کورونا کیسیس میں اضافہ کے بعد عوام اپنی جانب سے از خود تحدیدات کررہے ہیں۔ن
تلنگانہ میں 4,393 نئے کورونا کیس ‘ 2 اموات
حیدرآباد 22 جنوری ( سیاست نیوز ) تلنگانہ میں کورونا کیسوں میں اضافہ کا سلسلہ جاری ہے اور آج جملہ 4,393 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ حیدرآباد میں متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ جی ایچ ایم سی حدود میں 1,643 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت کے بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ میڑچل ۔ ملکاجگری حدود میں 421 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ رنگاریڈی سے 286 کیس رپورٹ ہوئے ۔ ہنمکنڈہ میں 184 اور کھمم میں 128 کیس جبکہ پیدا پلی سے 98 کیس رپورٹ ہوئے ۔ ریاست میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو اموات ہوئی ہیں جبکہ 2,319 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ صحتیابی کی شرح 95.18 فیصد رہی ہے ۔ ریاست میں جملہ 31,199 افراد کورونا کے تحت زیر علاج ہیں۔