حیدرآباد۔12جولائی (سیاست نیوز) ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر جاریہ ماہ 4 جولائی کو شروع ہوچکی ہے!عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے تیسری لہرکے متعلق انتباہ جاری کئے جانے کے بعد اب اس بات کی توثیق کی جانے لگی ہے کہ ملک میں 4 جولائی سے اسی طرز کی اموات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جو کہ جاریہ سال فروری کے آغاز کے ساتھ ہوا تھا اور ماہ اپریل کے اختتام تک جاری رہی تھی۔ ماہرین وبائی امراض کا کہناہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں تیسری لہر کے آثار نظر آنے لگے ہیں اور کیرالہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے۔ دنیا بھر میں جاری کورونا وائرس کی تیسری لہر کے اثرات کے متعلق اعداد وشمار کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ جرمنی ‘ روس‘ اٹلی کے علاوہ برطانیہ میں کورونا وائرس کی تیسری لہر جاری ہے۔ جرمنی میں کورونا وائرس کے پہلے مرحلہ سے اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا جارہاہے کہ جرمنی میں پہلی لہر مارچ 2020 سے مئی 2020 کے دوران جاری رہی جبکہ دوسری لہر اگسٹ 2020سے فروری 2021 کے دوران ریکارڈ کی گئی۔ جرمنی میں تیسری لہر فروری 2021 سے جولائی 2021 تک جاری ہے ۔ اسی طرح روس میں پہلی لہر اپریل 2020 سے ستمبر2020 تک جاری رہی جبکہ دوسری لہر ستمبر2020 سے مئی 2021 تک جاری رہی ۔روس میں تیسری لہر مئی 2021میں شروع ہوئی اور اب بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ کا سلسلہ جاری ہے ۔ اٹلی میں پہلی لہر مارچ 2020 سے شروع ہوئی جو کہ جون 2020 تک جاری رہی ۔دوسری لہر اگسٹ 2020 سے ڈسمبر2020 تک جاری رہی۔ اٹلی میں تیسری لہر فروری 2021 سے جولائی 2021 تک جاری ہے ۔برطانیہ میں پہلی لہر مارچ 2020 سے شروع ہوئی جو کہ نومبر 2020 تک جاری رہی جبکہ دوسری لہر ڈسمبر 2020 سے اپریل2021 تک جاری رہی اور برطانیہ میں اب تیسری لہر جاری ہے جو کہ مئی 2021 سے شروع ہوئی ہے اور روزانہ کی اساس پر مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈکیا جانے لگا ہے۔ماہرین جو کورونا وائرس کے مریضوں اور وباء کے پھیلنے کے طریقہ کار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ان کا کہناہے کہ ہندستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کی شروعات 4 جولائی سے ہو چکی ہے اور اس لہر کی شدت سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری لہر سے زیادہ شدیدہوگی۔ 4 جولائی سے تیسری لہر کے آغاز کی توثیق کرنے والے ماہرین کا کہناہے کہ ہندستان میں دوسری لہر کا آغاز فروری 2021 میں ہوا تھا اور فروری 2021 کے ابتداء میں جس رفتار سے اموات ہورہی تھیں اور جس طرز کی اموات ریکارڈ کی جا رہی تھیں اسی طرز کی اموات کا سلسلہ جولائی کی ابتداء سے ہوچکا ہے۔