کورونا کی تیسری لہر میںشدت

   

چند ماہ کے وقفہ کے بعد کورونا نے ایک بار پھر اپنا سر ابھارناشروع کردیا ہے ۔ کورونا کی تیسری لہر ملک بھر میںشروع ہوچکی ہے اور یومیہ کورونا متاثرین کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے ۔ ان میںاومی کرون کے مریضوںکی بھی تعدادخاطر خواہ سامنے آنے لگی ہے ۔ کیسوں کی تعداد دوگنی ہونے کی رفتار بھی بہت زیادہ ہوگئی ہے جس کے نتیجہ میںصحت کے شعبہ پر دباؤ میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ عوام بہت تیزی سے اس وائرس کا ایک بار پھر شکار ہونے لگے ہیں۔حکومتوںکی جانب سے اس کی روک تھام کیلئے کچھ اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے اور کہیںتعلیمی اداروںکو بند کردیا گیا ہے تو کہیں نائیٹ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔ کہیں ویکنڈ لاک ڈاون نافذ کردیا گیا ہے تو کہیں مالس اور تجارتی اداروںو سنیما ہالس پر تحدیدات عائد کردی گئی ہیں۔ کہیںجم بند کردئے گئے ہیں تو کہیں تقاریب پر بھی تحدیدات عائد کی گئی ہیں۔ یہ اقدامات صرف کورونا کے پھیلاؤ کی رفتار کو قابو میںکرنے سے متعلق ہیں اس کے باوجود کورونا کی رفتار پر کوئی قابو نہیںپایا جاسکا ہے ۔بہت تیزی سے اس میںاضافہ ہو رہا ہے جو عوام کیلئے قابل تشویش ہے ۔ ملک کی دو ریاستوںمہاراشٹرا اور دہلی میں یہ بہت تیزی سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ کورونا کی رفتار میں تیزی کے ساتھ ہی ساری توجہ دواخانوںپر مرکوز ہوگئی ہے ۔ دواخانوںمیں بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات شروع کردئے گئے ہیں۔ کئی ریاستوںمیںآکسیجن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تو کہیں وینٹیلیٹرس تیار رکھے جا رہے ہیں ۔ کہیں دواخانوںمیں بستروں کی تعداد میںاضافہ کیا جا رہا ہے تو کہیں عوام میں شعور بیدار کرنے کے اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ حکومتوں کی جانب سے ڈاکٹرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے احکام جاری کردئے گئے ہیں۔ کچھ دواخانوںکو خالص کورونا کے علاج کیلئے مختص کردیا جا رہا ہے ۔ یہاںدوسرے مریضوں کیلئے علاج کی سہولتیںروکی جا رہی ہیں۔ غرض یہ کہ گہما گہمی کی صورتحال ایک بار پھر پیدا ہونے لگی ہے ۔ عوام میں بھی اس تعلق سے مختلف اندیشے سر ابھارنے شروع ہوگئے ہیں۔
حکومت کے اقدامات حالانکہ بہت تیزی سے کئے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود کورونا کے پھیلاؤ میں کوئی رکاوٹ نہیںآ رہی ہے ۔ راتوں رات اس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ لوگ مختلف عوارض کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ متعدی امراض بھی شدت سے پھیل رہے ہیں۔ ایسے میں حکومتوںکو بطور خاص محکمہ صحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ممکنہ حد تک ہر طرح کی سہولیات دواخانوںمیںتیار رکھی جانی چاہئیں۔ محض اعلانات کی حد تک کارروائی نہیںہونی چاہئے بلکہ اس کیلئے عملی اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ موثر ادویات کی فراہمی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ عوام میں کورونا سے بچاؤ کے اقدامات پر شعور بیدار کیا جانا چاہئے ۔ جب تک عوام صد فیصد احتیاط سے کام نہیں لیں گے اس وقت تک کورونا کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں ہوگا ۔ جس طرح سے لا پرواہی کا مظاہرہ عوامی حلقوں میں کیا جا رہا ہے وہ تباہی کی وجہ بن سکتا ہے ۔ مصیبتیں آسکتی ہیں۔ مسائل اور پریشانیاںلاحق ہوسکتی ہیں۔ عوام کو خود اپنی حفاظت اور بچاؤ کے اقدامات پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ دو سابقہ کورونا لہروں کا جو تجربہ ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے عوام کو احتیاطی اقدامات کو ملحوظ رکھنا ہوگا ۔ حکومتوں کے اقدامات پر تکیہ کرنے کی بجائے اپنی صحت اور زندگیوںکے تحفظ پرخود کو توجہ کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ جو نقصانات کورونا وائرسں کی دو بابقہ لہروں میںہوئے ہیں ہم ایک بار پھر ان ہی نقصانات کو برداشت کرنے کے متحمل نہیںہوسکتے ۔
بارہا عوام کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ تقاریب کے انعقاد میں احتیاط سے کام لیا جائے ۔ ماسک کا استعمال لازمی طور پر کیا جائے اور جو لوگ پہلے سے دوسرے عوارض و بیماریوں کا شکار ہیں ان پر خاص توجہ دی جائے ۔ دواخانوںمیںجوسہولیات دستیاب ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے معمولی سی بھی علامات پائے جانے پر فوری ڈاکٹرس اور دواخانوںسے رجوع کریں۔ گھریلو علاج اور ٹوٹکوںپر اکتفاء کرنے سے ممکنہ حد تک گریز کیا جائے ۔ جو نراج اور گہما گہمی کی کیفیت ابتدائی دو لہروں میں پیدا ہوئی تھی اس کو ٹالنے کیلئے خود احتیاط ہی واحد اور موثر ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ عوام کو اس بات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے کام کرنا چاہئے ۔