احتیاطی تدابیر سے بچاؤ ممکن،کونسل فار سائینٹفک ریسرچ کے سائینسدانوں کی تحقیق
حیدرآباد۔یکم؍ اگسٹ، ( سیاست نیوز) ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے بارے میں سائنسی تحقیقی ادارے مختلف رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ کونسل آف سائینٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر شیکھر منڈے نے کہا کہ کورونا کی آئندہ لہر کا آنا یقینی ہے تاہم یہ لہر کب اور کیسے اثر انداز ہوگی اس پر وثوق کے ساتھ کہا نہیں جاسکتا۔ ڈاکٹر شیکھر نے کہا کہ ٹیکہ اندازی اور ماسک کا استعمال تیسری لہر کے اثر کو کم کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔ ادارہ کی جانب سے کیرالا میں وقوع پذیر نئے کیسوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلٹا پلس ویرینٹ سے زیادہ پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ، یوروپ اور امریکہ میں تازہ لہر شروع ہوچکی ہے۔ ہمیں احتیاطی تدابیر کے ساتھ صورتحال سے نمٹنا ہوگا۔ تیسری لہر کی آمد یقینی ہے لیکن یہ کب اور کیسے اثر انداز ہوگی اس بارے میں سائینسدانوں کی رائے مختلف ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تیسری لہر سے بچنے کوویڈ قواعد پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ سائینسی طور پر اس بات کے ٹھوس ثبوت ہیں کہ ٹیکہ اندازی وائرس کے اثر کو روکنے میں کارگر ثابت ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے اثرات آئندہ تین برسوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ کونسل کے 37 سائینسدانوں نے کورونا کی تیسری لہر پر ریسرچ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کٹس اور ٹسٹنگ کے طریقہ کار کو ایجاد کیا گیا۔ کونسل آف سائینٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ لیاب نے کورونا ویکسین، ادویات اور دیگر انفرااسٹرکچر کی تیاری میں اپنی حصہ داری ادا کی ہے۔