بحران کے اس دور میں ضرورت مندوں کی مدد سے گریز ؟
حیدرآباد۔ ملی تنظیمیں اور ادارے کورونا وائرس کے مریضوں کی مدد کیلئے آگے آنے کے بجائے کس بات کا انتظار کر رہے ہیں!شہر حیدرآباد بحران کے حالات میں دوسروں کی مدد اور ان کی بازآبادکاری کے علاوہ انہیں فوری راحت کی فراہمی کے اقدامات میں سب سے آگے رہتا ہے لیکن کورونا وائرس کی اس وباء بالخصوص دوسری لہر کے دوران کسی بھی ادارہ یا تنظیم کی جانب سے بڑے پیمانے پر شعبہ صحت اور طبی امداد کی فراہمی کے اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں جبکہ دونوںشہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں لوگ آکسیجن کی قلت کے سبب اپنی جان گنوارہے ہیں۔ پرانے شہر سے حکومت کی بے اعتنائی اور اس مسئلہ پر منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن وباء کے اس دور میں جن حالات کا سامنا عوام کو کرنا پڑرہا ہے اور طبی سہولتوں کے فقدان بالخصوص پرانے شہر علاقہ میں کوئی سرکاری آکسیجن بستر نہ ہونے کے سبب شہریوں کو اپنے طور پر آکسیجن کا انتظام کرنا پڑرہا ہے لیکن اس بحران کے حالات کے دوران شہر حیدرآباد میں خدمات انجام دینے والے بیشتر ملی ادارے اور تنظیموں کی جانب سے بھی اب تک کوئی عملی اقدامات کا سلسلہ شروع ہوتا نظر نہیں آرہا ہے جبکہ بعض جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے آکسیجن بستروں پر مشتمل مرکز کے قیام کے اعلانات کئے گئے لیکن اب تک اس کا آغاز نہیں کیا گیا اور کہا جا رہاہے کہ اس کے لئے مزید ایک ہفتہ سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے اسی طرح بعض تنظیمو ںکی جانب سے ہیلپ لائن کے نام پر سوشل میڈیا پر گشت کرنے والے نمبروں کی تشہیر کی جارہی ہے جن میں بڑی حد تک صداقت نہیں ہے۔ملی تنظیموں اور اداروں کے ذمہ دارجو کہ حکومت سے قربت کے دعوے کرتے ہیں وہ بھی کورونا وائرس کی وباء کے دوران حکومت کی جانب سے پرانے شہر میں طبی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باوجود خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور سیاسی قائدین کی طرح دہلی میں آکسیجن کی قلت پر تنقید کی جا رہی ہے لیکن اپنے ہی شہر میں مریضوں کو جو آکسیجن کی قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جا رہاہے بلکہ اپنے شہر کے مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے دیگر ریاستوں کے حالات پر تبصرہ کیاجارہا ہے ۔شہر میں فی الحال جو آکسیجن سیلنڈرس کی فراہمی اور مدد کی کوشش کی جار ہی ہے وہ کسی تنظیم یا ادارہ کی جانب سے نہیں کی جا رہی ہے بلکہ بعض دردمند نوجوان جو کہ ان حالات میں خاموش نہیں رہ سکتے وہ طبی سہولتوں کی فراہمی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔شہر حیدرآباد کے نوجوانوں کی بڑی تعداد جو آکسیجن کی فراہمی اور طبی امداد کی فراہمی میں مصروف ہے ان نوجوانوں کا کہناہے کہ ملی ادارے اور تنظیمیں جو کہ اقامت دین اوردعوت کے کاموں کو انجام دیتی ہیں ان کے لئے زریں موقع ہے اور وہ انہیں وصول ہونے والی زکواۃ کو بہترین مصرف تالیف القلوب پر غیر مسلموں کو طبی امداد کی فراہمی کے ذریعہ انجام دے سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود اب تک جو خاموشی اختیار کی گئی ہے وہ ناقابل فہم ہے۔