کورونا کیخلاف غریب ملکوں کیلئے 6.7 بلین ڈالر درکار

,

   

افریقی خطہ میں معیشت کا برا حال ، اقوام متحدہ کا جائزہ
اقوام متحدہ ۔ /8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ (یو این) نے حکومتوں ، کمپنیوں اور ارب پتی شخصیتوں سے اپیل کی ہے کہ مخدوش اور غریب ملکوں میں کورونا وائرس وباء سے لڑنے میں ہنگامی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے 6.7 بلین امریکی ڈالر کے فنڈ میں عطیہ دیں ۔ یو این نے انتباہ دیا ہے کہ اس فنڈ کی تشکیل میں ناکامی فاقہ کی وباء ، قحط سالی ، فسادات اور مزید لڑائی جھگڑے کا موجب بن سکتی ہے ۔ اقوام متحدہ کا ماننا ہے کہ افریقی خطہ میں زیادہ تر غریب ممالک واقع ہیں جہاں پہلے سے کمزور معیشت کووڈ۔ 19 کے بعدتباہ حال ہوچکی ۔یو این کے انسانی بنیادوں پر اقدامات کرنے والے ادارہ کے سربراہ مارک لوو کاک نے کہا کہ کووڈ۔ 19نے اب تقریباً ہرملک کو متاثر کردیا ہے اور سیارہ زمین پر شائد ہی کوئی فرد اس مرض سے یا اس کے خوف سے بچا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وباء کا عروج دنیا کے غریب ترین ممالک میں مزید 3 تا 6 ماہ میں متوقع ہے جس کے بعد صورتحال بے قابو ہوسکتی ہے ۔

کورونا سے نمٹنے میں غریب ملکوں کو مشکلات درپیش
مہلک وباء سے مقابلے کیلئے 6.7 ارب ڈالر امداد کیلئے اقوام متحدہ کی اپیل

نیویارک ۔ 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ نے ناول کورونا وائرس کی عالمی وبا سے نبرد آزما لیکن معاشی طور پر کمزور ممالک کیلیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی اپنی اپیل 2 ارب ڈالر سے بڑھاکر 6 ارب 77 کروڑ ڈالر کردی ہے۔ پآستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔اقوامِ متحدہ میں انسانی ہمدردی اور ہنگامی امداد سے متعلق امور کے نائب سیکریٹری جنرل مارک لوکاک نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ان کے ادارے کو کورونا وائرس سے متاثرہ غریب ممالک کی مدد کیلیے 6.77 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔مارچ میں اس امدادی رقم کا تخمینہ 2 ارب ڈالر لگایا گیا تھا جس میں 54 ممالک شامل تھے۔ تاہم کورونا وائرس کی بگڑتی صورتِ حال اور اس سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے امداد کے مستحق ملکوں میں مزید 9 ممالک کا اضافہ کردیا گیا ہے جن میں پاکستان کے علاوہ بینن، جبوتی، لائبیریا، موزمبیق، فلپائن، سیرا لیون، ٹوگو اور زمبابوے شامل ہیں۔مارک لوکاک کا کہنا تھا کہ اگر ہم وبائی امراض کا مقابلہ لرنے اور کساد بازاری کے اس دور میں غریب لوگوں بالخصوص خواتین، لڑکیوں اور دیگر پسماندہ گروہوں کی مدد نہیں کرتے تو ہمیں آنے والے کئی برسوں تک اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ رقم کروڑوں زندگیوں کو وائرس کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے ضروری ہے۔انسانیت کی فلاح سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر کا جمعرات کے روز کہنا تھا کہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں آئندہ تین سے چھہ ماہ تک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شدت بڑھنے کی توقع نہیں ہے۔ لیکن، وہاں ابھی سے لوگ اپنی ملازمتوں اور روزی روٹی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ وہاں خوراک کی رسد مین بھی کمی آتی جا رہی ہے۔اقوامِ متحدہ نے پہلے دو ارب ڈالر کی اپیل کی تھی۔

تاہم، جمعرات کے روز اس کا کہنا تھا کہ اْسے اب 6.7 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے دفتر کے سربراہ، مارک لاک وْڈ کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت ان لوگوں کی مدد نہ کی گئی، خاص طور پر خواتین اور بچوں اور دیگر کمزور گروپوں کی جو اس وقت عالمی وبا اور عالمی کساد بازاری سے نبرد آزما ہیں، تو پھر مرتب ہونے والے اثرات سے ہمیں آئندہ کئی برسوں تک نمٹنا ہوگا۔ اور یہ بات آئندہ چل کر نہ صرف سب کیلئے مشکل کی باعث ہوگی بلکہ مہنگی تر بھی ہوتی جائے گی۔جمعرات کے روز افریقہ میں متعدی بیماریوں کی روک تھام کے مراکز نے برِاعظم افریقہ میں پچاس ہزار سے زیادہ کورونا وائرس کے شکار افراد کی تصدیق کی ہے۔ متاثرین کی سب سے بڑی تعداد جنوبی افریقہ اور مصر میں ہے۔دوسری جانب متعدد ممالک کے عہدیداروں نے اس خوش خیالی کے اظہار کے طور پر لاک ڈاؤن میں نرمی پیدا کرنا شروع کر دی ہے۔ ان کے ممالک میں وائرس کی شدت اب کم ہو رہی ہے۔صحت کے امور سے متعلق دفتر کا کہنا ہے کہ اگر پابندیوں کو جلد اٹھا لیا گیا تو پھر وائرس سے پھیلنے والی وبا زیادہ شدت سے لوٹ سکتی ہے۔