مسلمانوں کی ناراضگی پر اقدام، چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کی بروقت مداخلت
حیدرآباد۔ 13 اپریل (سیاست نیوز) کورونا وائرس کے سلسلہ میں مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دینے سے متعلق بیان پر آندھراپردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر نارائن سوامی نے آخرکار مسلمانوں سے غیر مشروط معذرت خواہی کی ہے۔ نارائن سوامی نے بیان دیا تھا کہ آندھراپردیش میں کورونا پھیلائو کے لیے مسلمان ذمہ دار ہیں جو صحت و صفائی کا خیال نہیں رکھتے اور نہ ہی اپنے برتن دھوکر کھاتے ہیں۔ نارائن سوامی کے اس بیان سے مسلمانوں میں سخت ناراضگی پیدا ہوگئی اور کئی مسلم تنظیموں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ ابتداء میں نارائن سوامی اپنے موقف پر ڈٹے رہے لیکن بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کی ہدایت پر مسلمانوں سے معذرت خواہی کرلی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نارائن سوامی نے کہا کہ وہ دلت طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کو ایک ہی خاندان تصور کرتے ہیں۔ میں نے جو کچھ کہا ہے اس کا مقصد مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں ہے۔ ٹی وی چینلس میں جو باتیں پیش کی گئیں اسے میں نے دہرایا ہے۔ اگر میرے الفاظ سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچی ہو تو میں مسلمانوں اور علماء سے غیر مشروط معذرت خواہی کرتا ہوں۔ جگن موہن ریڈی حکومت ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتوں کی بھلائی پر توجہ دینے والی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملک کو کورونا وائرس کے خطرے سے بچائو کے لیے بارگاہِ الٰہی میں خصوصی دعا کریں کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہی اس وباء سے نجات دے سکتے ہیں۔ نارائن سوامی نے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا جس سے مسلمانوں میں ناراضگی پیدا ہوئی ہے۔ سیاسی کیریئر میں میں ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ رہا ہوں۔ 1981ء میں میں نے حبیب نامی شخص کو سرپنچ کے عہدے کے لیے مقابلہ کروایا تھا۔ نارائن سوامی نے بتایا کہ چیف منسٹر نے ان سے اس مسئلہ پر بات چیت کی اور میں نے غیر مشروط معذرت خواہی کا فیصلہ کیا۔