مظاہروں کا انعقاد۔ مرکزی وزیر ہرش وردھن سے نمائندگی ۔ وقار کا مسئلہ نہ بنانے ممتابنرجی سے مرکزی وزیر کی اپیل
نئی دہلی 14 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) ملک بھر میں کئی سرکاری اور خانگی دواخانوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرس نے آج اپنے کام کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کئے اور کولکتہ میں احتجاج کر رہے ڈاکٹرس سے اظہار یگانگت کرتے ہوئے نعرے لگائے ۔ نئی دہلی کے مختلف اسپتالوں کے علاوہ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے بھی تین روزہ ملک گیر احتجاج شروع کیا ۔ اس کے علاوہ مہاراشٹرا ، حیدرآباد ، جئے پور ، رائے پور ، چندی گڑھ ، کوئمبتور اور دیگر شہروں میں بھی سرکاری اور خانگی دواخانوں کے ڈاکٹروں نے اپنا کام روک کر کولکتہ کے ہڑتالی ڈاکٹروں سے اظہاریگانگت میں جلوس نکالے اور نعرے لگائے ۔ دہلی میں ڈاکٹرس کے ایک گروپ نے مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن سے بھی ملاقات کی اور انہیں ڈاکٹرس کے اس مطالبہ سے واقف کروایا کہ دواخانوں کے احاطہ میں کسی بھی امکانی تشدد سے ڈاکٹرس کو محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ مسٹر ہرش وردھن نے ڈاکٹرس کو تیقن دیا کہ وہ ان کے مطالبات کا جائزہ لیں گے ۔ معربی بنگال میں جونئیر ڈاکٹرس منگل سے ہڑتال پر ہیں کیونکہ وہاں دو جونئیر ڈاکٹرس کو ایک مریض کے رشتہ داروں نے حملہ کا نشانہ بناتے ہوئے شدید زخمی کردیا تھا ۔ یہ واقعہ کولکتہ کے این آر ایس میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں پیش آیا تھا ۔ ریزیڈنٹ ڈاکٹرس اسوسی ایشن کے بیانر تلے ان ڈاکٹرس نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسیس کے کیمپس میں بھی مظاہرہ کیا ۔ ان ڈاکٹرس نے اپنے ماتھے پر بیاجس پہنے ہوئے تھے ۔
ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے ۔اس کے علاوہ سرکاری دواخانہ صفدر جنگ ہاسپٹل اور لیڈری ہارڈنگ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے احاطہ میں بھی ڈاکٹرس نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔ دہلی کے سرکاری دواخانوں لوک نائک جئے پرکاش نارائن ہاسپٹل ‘ ڈاکٹر امبیڈکر میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل ‘ ڈی ڈی یو ہاسپٹل ‘ سنجے گاندھی میموریل ہاسپٹل ‘ انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن بیہیوئیر اینڈ الائیڈ سائینسیس اور خانگی دواخانہ جیسے سر گنگا رام ہاسپٹل کے ڈاکٹرس نے بھی آج اس احتجاج میں حصہ لیا ۔ جئے پرکاش نارائن ہاسپٹل کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر کشور سنگھ نے کہا کہ اس احتجاج کی وجہ سے آوٹ پیشنٹ بلاک کو بند کردیا گیا تھا اور صرف ہنگامی خدمات کا محکمہ کام کر رہا تھا ۔ دواخانہ میں یومیہ نو ہزار آوٹ پیشنٹس رجوع ہوتے ہیں۔ تاہم آج صرف دو ہزار مریض ہی یہاں رجوع ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ دہلی حکومت کا سب سے بڑا دواخانہ ہے اس لئے یہاں مریضوں کی خدمات متاثر ہو رہی ہیں تاہم چونکہ دوسرے ڈاکٹرس مسائل سے دوچار ہیں اس لئے ڈاکٹرس کو یہاں اظہار یگانگت کرنا ضروری تھا ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سر گنگارام ہاسپٹل میں بھی خانگی او پی ڈی کو بند کردیا گیا تھا تاکہ بنگال کے احتجاجی ڈاکٹرس سے اظہار یگانگت کیا جاسکے ۔ دواخانہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سر گنگارام ہاسپٹل کے تمام ڈاکٹرس بنگال کے ڈاکٹرس کے ساتھ ہیں اور ان سے اظہار یگانگت کرتے ہیں۔ جی پی پنت اور گرو نانک ہاسپٹل کے ریزیڈنٹ ڈاکٹرس کے علاوہ مولانا آزاد میڈیکل کالج کے ڈاکٹرس نے بھی آج احتجاج میں حصہ لیا ۔ اس دوران مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے کولکتہ میں جونئیر ڈاکٹرس کے احتجاج اور اس کی تائید میں دہلی میں دوسرے ڈاکٹرس کے احتجاج کے پیش نظر ان ڈاکٹرس سے اپیل کی کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریںاور مریضوں کی خدمات کا سلسلہ جاری رکھیں۔ مسٹر ہرش وردھن نے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ کو زیادہ حساس یا وقار کا مسئلہ بھی نہ بنائیں ۔
کولکتہ کے احتجاجی ڈاکٹرس سے اظہار یگانگت کے طور پر دہلی میں بھی مختلف دواخانوں کے ڈاکٹرس کی جانب سے مظاہرے کئے گئے
زراعت و پسماندہ شعبوں پر بھی صنعتی گھرانوں کی توجہ ضروری:گڈکری
