کولیجیئم اور ایڈوکیٹس اسوسی ایشن کی سفارشات کے بعد بھی ٹال مٹول

   

قریشی کی جگہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر شنکر جھاکا تقرر
نئی دہلی۔16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مرکز نے جمعہ کے دن سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ 10 مئی کی کولیجیئم کی سفارشپر اپنے فیصلے سے ایک ہفتہ کے اندر عدالت کو آگاہ کرے گا تاکہ عقیل قریشی کو مدھیہ پردیش کی عدالت عالیہ کے جسٹس کے عہدے پر ترقی دی جاسکے۔ جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوہڈے اور جسٹس ایس عبدالنذیر پر مشتمل بنچ نے کی سولیسیٹر جنرل توشار مہتا نے یہ باتیں بتائیں کہ مرکز کولیجیئم کی سفارش پر ایک ہفتہ کے اندر اپنا فیصلہ صادر کرے گا۔ توشار نے کہا کہ مجھے ہدایت کی گئی ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے۔ مذکورہ بنچ نے اس معاملے کی سماعت کو ملتوی کردیا ہے اور کہا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے آئندہ تاریخ مقرر کی جائے گی۔ 2 اگست کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے سنٹر سے دریافت کیا تھا کہ وہ اس معاملے میں 14 اگست تک کوئی قطعی فیصلہ کردے۔ دریں اثنا سپریم کورٹ گجرات ہائی کورٹ ایڈوکیٹس اسوسی ایشن کی اس درخواست کی سماعت کررہی تھی جس میں قریشی کو جسٹس کے عہدے پر تقرر کی ہدایت جاری کرنے کو کہا گیا تھا۔ قانون دونوں کی اسوسی ایشن نے مرکز پر الزام لگایا کہ اس نے دیگر ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس کے تقرر کو انجام دے دیا ہے لیکن قریشی کے معاملے میں ابھی تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ 10 مئی کو کولیجیئم کی سفارش کے باوجود بھی قریشی کے نام کو منظوری نہیں دی گئی۔ مرکز نے قریشی کے تقرر کی مثل کو منظوری نہیں دی بلکہ اس کے برعکس 7 جون کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ اس عہدے پر جسٹس روی شنکر جھا کا مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کیلئے عارضی تقرر کردیا۔