مباحث کی تکمیل کے بعد صدر نشین کونسل نے ندائی ووٹ سے منظوری کا اعلان کیا
حیدرآباد۔ 21۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں آج مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے قوانین میں ترمیم اور ’حیدرا‘ کو اختیارات کی حوالگی ‘ ریکارڈ س آف رائیٹس ان تلنگانہ کے علاوہ پنچایت راج ایکٹ میں ترمیم کے بلوں کو منظوری دے دی گئی ۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے ان قوانین میں ترامیم کے بلوں کو گذشتہ یوم تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے منظور کیاگیا تھا اور آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ان بلوں کی منظوری کے لئے مباحث منعقد کئے گئے گئے اور مباحث کی تکمیل کے بعد صدرنشین کونسل مسٹر جی سکھیندر ریڈی نے ندائی ووٹ سے ان بلوں کی منظوری کا اعلان کیا ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں ’حیدرا‘ کے قیام اور اس کی قانونی حیثیت کے سلسلہ میں قانون سازی کرنے کے اقدامات کے طور پر ’حیدرا‘ کے آرڈیننس کو ایوان میں پیش کرتے ہوئے اسے ایکٹ میں تبدیل کرنے کے لئے مباحث منعقد کئے ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں مباحث کے دوران ایوان میں موجود کئی اراکین قانون ساز کونسل بشمول مسٹر ٹی جیون ریڈی ‘ مسٹر ایم ایس پربھاکر‘ جناب ریاض الحسن آفندی‘ مسٹر تین مار ملنا ‘ مسٹر وینکٹ بالمور‘ مسٹر رویندر راؤ‘ مسٹر ایس راجو‘ مسز ستیہ وتی راتھوڈ‘ مسز کے کویتا کے علاوہ قائد اپوزیشن مسٹر مدھوسدن چاری نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے مذکورہ تینوں بلوں کے متعلق اپنے استفسارات پیش کئے اور عوامی خدشات سے واقف کرواتے ہوئے حکومت سے کہا کہ ان ترامیم کے سلسلہ میں آگہی حاصل کرنی چاہئے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے وزراء مسٹر پونم پربھاکر‘ مسٹر ڈی سریدھر بابو کے علاوہ مسٹر جوپلی کرشنا راؤ موجود تھے جنہوں نے اراکین قانون ساز کونسل کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ریاستی حکومت کے موقف سے واقف کروایا ۔مسٹر ڈی سریدھر بابو نے حکومت کی جانب سے مباحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں خدمات کی بہتری کے اقدامات کے لئے کام کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں ماحولیات کے تحفظ کے ذریعہ قدرتی وسائل کو بھی محفوظ رکھا جانا ضروری ہے۔ ریاستی وزیر امور مقننہ و انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر ڈی سریدھر بابو نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ترمیمی بل کے علاوہ پنچایت راج قوانین میں کی جانے والی ترامیم اور ساتھ میں محکمہ مال کے قوانین میں ترمیم کے سلسلہ میں بل پر جاری مباحث کے دوران جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوامی مفادات اور تلنگانہ کی جامع ترقی کو نظر میں رکھتے ہوئے ان ترامیم کو منظوری دی ہے۔قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر مدھوسدن چاری کے علاوہ دیگر نے بھی حکومت سے ان ترامیم اور قوانین کے سلسلہ میں وضاحت طلب کیں ۔ مجلس رکن اسمبلی جناب ریاض الحسن آفندی نے کونسل میں مباحث کے دوران ان کیا پارٹی کے موقف سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت مجل اتحادالمسلمین ’حیدرا‘ کے نام پر جاری کاروائیوں کے خلاف ہے۔3